تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 412

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۲ سورة الحج اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً ۖ إِنَّ اللَّهَ لطيف خَبيره ایسا پانی اتارا جس سے گلی سڑی ہوئی زمین سرسبز ہوگئی۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۳۰ حاشیه ) وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَا وَ مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ وَ مَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ نَصِيرِه یعنی عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے ایسی چیز کی جس کی خدائی پر اللہ تعالیٰ نے کوئی نشان نہیں بھیجا یعنی نبوت پر تو نشان ہوتے ہی ہیں مگر وہ خدائی کے کام میں نہیں آسکتے اور پھر فرماتا ہے کہ اس عقیدہ کے لئے ان کے پاس کوئی علم بھی نہیں یعنی کوئی ایسی معقولی دلائل بھی نہیں ہے جن سے کوئی عقیدہ پختہ ہو سکے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۷۹) يَايُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ لووووو يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَ لَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبُهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الظَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ۔اے لوگو! ایک مثال ہے تم غور کر کے سنو جن چیزوں سے تم مراد میں مانگتے ہو وہ چیز میں تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو اس سے چھوڑا نہیں سکتیں۔طالب بھی ضعیف ہیں اور مطلوب بھی ضعیف یعنی مخلوق چیزوں سے مرادیں مانگنے والے ضعیف العقل ہیں اور مخلوق چیزیں جو معبود ٹھہرائی گئی ہیں وہ ضعیف القدرت ہیں۔(براہین احمدیہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۳ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) جن لوگوں کو تم خدا بنائے بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ اگر سب مل کر ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو کبھی پیدا نہ کر سکیں اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں بلکہ اگر مکھی ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی