تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 409

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۹ سورة الحج وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ۔۔۔۔۔۔۔۔اور تجھ سے عذاب کے لئے جلدی کرتے ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۳) وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطن في ـنِيَّتِهِ ، فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ ايْتِهِ وَ اللهُ عَلِيمٌ حَكِيمُ (۵۳ ج الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی۔اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے استکشاف کے لئے بطور استخارہ و استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اُس وقت اُس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے مگر وہ بلا توقف نکالا جاتا ہے۔اس کی طرف اللہ جل بھائہ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَلَى الْقَى الشَّيْطنُ في أَمْنِيَّتِهِ - (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۹) یہ بات خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے برخلاف ہے کہ وہ شیاطین کو ان کے مواضع مناسبہ سے معطل کر دیوے۔اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِيَّ إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ ايَتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ - یعنے ہم نے کوئی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ اس کی یہ حالت نہ ہو کہ جب وہ کوئی تمنا کرے یعنے اپنے نفس سے کوئی بات چاہے تو شیطان اس کی خواہش میں کچھ نہ ملاوے یعنی جب کوئی رسول یا کوئی نبی اپنے نفس کے جوش سے کسی بات کو چاہتا ہے تو شیطان اس میں بھی دخل دیتا ہے تب وحی متلو جو شوکت اور ہیبت اور روشنی تام رکھتی ہے اس دخل کو اٹھا دیتی ہے اور منشاء الہی کو مصفا کر کے دکھلا دیتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں اور جو کچھ خواطر اس کے نفس میں پیدا ہوتی ہیں در حقیقت وہ تمام وحی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم اس پر شاہد ہے۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحَى يُوحَى (النجم : ۵،۴) لیکن قرآن کریم کی وحی دوسری وحی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تمیز کلی رکھتی ہے اور نبی کے