تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 399

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۹ سورة الحج تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اٹھاتے رہے مسلمان مرد اور عورتیں شہید کی گئیں۔آخر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو مقابلہ کا حکم دیا اور وہ بھی اس لئے کہ شریروں کی شرارت سے مخلوق کو بچایا جائے اور ایک حق پرست قوم کے لئے راہ کھل جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کے لئے بدی نہیں چاہی۔آپ تو رحم مجسم تھے اگر بدی چاہتے تو جب آپ نے پورا تسلط حاصل کر لیا تھا اور شوکت اور غلبہ آپ کومل گیا تھا تو آپ ان تمام ائمۃ الکفر کو جو ہمیشہ آپ کو دکھ دیتے تھے قتل کروا دیتے اور اس میں انصاف اور عقل کی رو سے آپ کا پلہ بالکل پاک تھا مگر باوجود اس کے کہ عرف عام کے لحاظ سے اور عقل و انصاف کے لحاظ سے آپ کو حق تھا کہ ان لوگوں کو قتل کروا دیتے مگر نہیں۔آپ نے سب کو چھوڑ دیا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴/جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۴) چودھویں پیشگوئی جو براہینِ احمدیہ کے اسی صفحہ ۲۳۹ میں ہے یہ ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللَّهِ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِم لقدیر یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ان پر ظلم ہوا اور خدا ان کی مدد کرے گا۔یہ آیات قرآنی الہامی پیرایہ میں اس عاجز کے حق میں ہیں اور رسول سے مراد مامور اور فرستادہ ہے جو دینِ اسلام کی تائید کے لئے ظاہر ہوا اس پیشگوئی کا ما حاصل یہ ہے کہ خدا نے جو اس مامور کو مبعوث فرمایا ہے یہ اس لئے فرمایا تا اس کے ہاتھ سے دینِ اسلام کو تمام دینوں پر غلبہ بخشے اور ابتداء میں ضرور ہے کہ اس مامور اور اس کی جماعت پر ظلم ہو لیکن آخر میں میں فتح ہو اور یہ دین اس مامور کے ذریعہ سے تمام ادیان پر غالب آجائے گا اور دوسری مالتیں بینہ کے ساتھ ہلاک ہو جائیں گی۔(سراج منیر ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۴۲، ۴۳) معترضین نے اسلام پر حملے کرتے وقت ہرگز ہر گز اصلیت پر غور نہیں کیا۔وہ دیکھتے کہ اس وقت تمام مخالف اسلام اور مسلمانوں کے استیصال کے در پے تھے اور سب کے سب مل کر اس کے خلاف منصوبے کرتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے تھے۔ان دکھوں اور تکلیفوں کے مقابلہ میں اگر وہ اپنی جان نہ بچاتے تو کیا کرتے؟ قرآن شریف میں یہ آیت موجود ہے اذنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس وقت دیا گیا جبکہ مسلمانوں پر ظلم کی حد ہوگئی تو انہیں مقابلہ کا حکم دیا گیا۔اس وقت کی یہ اجازت تھی دوسرے وقت کے لئے یہ حکم نہ تھا۔( بدر جلد ۲ نمبر ۵۱ مورخه ۲۰/ دسمبر ۱۹۰۶ء صفحه ۱۱)