تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 398
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۸ سورة الحج اجازت دی اور اس اجازت میں یہ ثابت کر دیا کہ واقع میں یہ لوگ ظالم تھے اور شرارت ان کی حد سے بڑھ چکی تھی اور مسلمانوں کا صبر بھی اپنے انتہائی نقطہ تک پہنچ چکا تھا۔اب خدا نے فرمایا کہ جن لوگوں نے تلوار سے مقابلہ کیا وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جاویں اور گو یہ چند اور ضعیف ہیں مگر میں دکھا دوں گا کہ میں بوجہ اس کے کہ وہ مظلوم ہیں ان کی نصرت کروں گا اور تم کو ان کے ہاتھ سے ہلاک کراؤں گا چنانچہ پھر اس حکم کے بعد ان ہی چندلوگوں کی جو ذلیل اور حقیر سمجھے گئے تھے اور جن کا نہ کوئی حامی بنتا تھا اور نہ مددگار اور وہ کفار کے ہاتھ سے سخت درجہ تنگ اور مجبور ہو گئے تھے ان کی مشارق اور مغارب میں دھاک بندھ گئی اور اس طرح سے خدا نے ان کی نصرت کر کے دنیا پر ظاہر کر دیا کہ واقعی وہ مظلوم تھے۔غرض ہر طرح سے، ہر رنگ میں اور ہر پہلو پر نظر ڈال کر دیکھ لو کہ واقع میں اس وقت مسلمان مظلوم تھے یا کہ نہیں۔اگر خدا ایسے خطر ناک اور نازک وقت میں بھی ان چند کمزور مسلمانوں کو اپنی حفاظت جان کے واسطے تلوار اٹھانے اور دفاعی طور سے لڑائی کرنے کی اجازت نہ دیتا تو کیا ان کو دنیا کے تختہ سے نابود ہی کر دیتا۔تو پھر اس حالت میں ان کا تلوار اُٹھانا جبکہ ہر طرح سے ان کا حق تھا کہ وہ تلوار اُٹھاتے کیا شرعاً اور کیا عرفا مگر وہ بھی آج تک نشانہ اعتراض بنا ہوا ہے۔- الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۹ مورخه ۱۸؍جون ۱۹۰۸ صفحه ۷،۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ صرف دفاعی تھے۔جب آپ کی اور آپ کے صحابہ کی تکالیف حد سے بڑھ گئیں اور بہت ستائے گئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مقابلہ کا حکم دیا چنانچہ پہلی آیت جو جہاد کے متعلق ہے وہ یہ ہے اذنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَق۔الآیۃ یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی جن کے مقابلہ قتل کے لئے مخالفوں نے چڑھائی کی (اس لئے اجازت دی گئی ) کہ ان پر ظلم ہوا اور اللہ تعالیٰ مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔یہ وہ مظلوم ہیں جو ناحق اپنے وطنوں سے نکالے گئے۔ان کا گناہ بجز اس کے اور کوئی نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔غرض آنحضرت صلعم کی لڑائیاں اس وقت تھیں جبکہ کفار کے ظلم انتباء تک پہنچ گئے۔القام جلد نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۹) بعض لوگ جن کو حق کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے۔۔۔۔اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام میں ہمدردی اگر ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائیاں کیوں کی تھیں؟ وہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطرناک دکھ اٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی مدافعت کے طور پر۔تیرہ برس