تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 397

۳۹۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحج آنحضرت صلعم کو قتل کرنے کے لئے انہوں نے بڑی بڑی کوششیں کیں۔طرح طرح کے منصوبے کئے۔یہاں تک کہ ہجرت کرنی پڑی۔مگر پھر بھی انہوں نے آنحضرت صلعم کا مدینہ تک تعاقب کیا اور خون کرنے کے در پے ہوئے۔غرض جب ہمارے نبی کریم صلعم نے مدت تک صبر کیا اور مدت تک تکلیف اٹھائی تب خدا نے فیصلہ دیا کہ جنہوں نے تم لوگوں پر ظلم کئے اور تکلیفیں دیں ان کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور پھر بھی یہ فرما ہی دیا کہ اگر وہ صلح پر آمادہ ہو دیں تو تم صلح کر لو۔ہمارے نبی کریم تو یتیم ، غریب، بیکس پیدا ہوئے تھے وہ لڑائیوں کو کب پسند کر سکتے تھے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۱۰) یہ نہایت درجہ کا ظلم ہے کہ اسلام کو ظالم کہا جاتا ہے حالانکہ ظالم وہ خود ہیں جو تعصب کی وجہ سے بے سوچے سمجھے اسلام پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اور باوجود بار بار سمجھانے کے نہیں سمجھتے کہ اسلام کے کل جنگ اور مقابلے کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر دفاعی رنگ میں حفاظت جان و مال کی غرض سے تھے اور کوئی بھی حرکت مسلمانوں کی طرف سے ایسی سرزد نہیں ہوئی جس کا ارتکاب اور ابتداء پہلے کفار کی طرف سے نہ ہوا ہو۔بلکہ بعض قابل نفریں حرکات کا مقابلہ بتقاضائے وسعت اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمد اترک کرنے کا حکم دے دیا تھا۔مثلاً کفار میں ایک سخت قابل نفرت رسم تھی جو کہ وہ مسلمان مردوں سے کیا کرتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیح فعل سے مسلمانوں کو قطعا روک دیا۔الحام جلد ۱۳ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۸) اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زمانہ میں بڑی بڑی مشکلات کا سامنا تھا۔آپ کے بہت سے جاں نثار اور عزیز دوست ظالم کفار کے تیر و تفنگ کا نشانہ بنے اور طرح طرح کے قابل شرم عذاب ان لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پہنچائے حتی کہ آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کر لیا۔چنانچہ آپ کا تعاقب بھی کیا۔آپ کے قتل کرنے والے کے واسطے انعام مقرر کئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غار میں پناہ گزین ہوئے۔تعاقب کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی گئی مگر یہ تو خدا تعالیٰ کا تصرف تھا کہ آپ کو ان کی نظروں سے باوجود سامنے ہونے کے بچالیا اور ان کی آنکھوں میں خاک ڈال کر خود اپنے رسول کو ہاتھ دے کر بچا لیا۔آخر کار جب ان کفار کے مظالم کی کوئی حد نہ رہی اور مسلمانوں کو ان کے وطن سے باہر نکال کر بھی وہ سیر نہ ہوئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد نازل ہوا أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلوار اُٹھانے کی