تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 394
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ سورة الحج عذاب الہی سے ہلاک کئے جائیں گے وہ پورا ہوا۔خود قرآن شریف میں ان لڑائیوں کی یہ وجہ صاف لکھی ہے أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَق آہ یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی جن کے قتل کے لئے مخالفوں نے چڑھائی کی (اس لئے اجازت دی گئی ) کہ ان پر ظلم ہوا اور خدا تعالیٰ مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔یہ وہ مظلوم ہیں جو ناحق اپنے وطنوں سے نکالے گئے۔ان کا گناہ بجز اس کے اور کوئی نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے یہ وہ آیت ہے جس سے اسلامی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے پھر جس قدر رعایتیں اسلامی جنگوں میں دیکھو گے ممکن نہیں کہ موسوی یا یشوعی لڑائیوں میں اس کی نظیر مل سکے۔موسوی لڑائیوں میں لاکھوں بے گناہ بچوں کا مارا جانا ، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل ، باغات اور درختوں کا جلا کر خاک سیاہ کر دینا تو رات سے ثابت ہے مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوصفیکہ ان شریروں سے وہ سختیاں اور تکلیفیں دیکھی تھیں جو پہلے کسی نے نہ دیکھی تھیں پھر ان دفاعی جنگوں میں بھی بچوں کو قتل نہ کرنے ، عورتوں اور بوڑھوں کو نہ مارنے ، راہبوں سے تعلق نہ رکھنے اور کھیتوں اور ثمر دار درختوں کو نہ جلانے اور عبادت گاہوں کے مسمار نہ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا اب مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کس کا پلہ بھاری ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲ مورخه ۱۷/جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۵،۴) اسلامی جنگیں بالکل دفاعی لڑائیاں تھیں۔جب کفار کی تکالیف اور شرارتیں حد سے گزرگئیں تو خدا ( تعالیٰ ) نے ان کو سزا دینے کے لئے یہ حکم دیا مگر عیسائیوں نے جو مختلف اوقات میں مذہب کے نام سے لڑائیاں کیں ہیں ان کے پاس خدا تعالیٰ کی کون سی دستاویز اور حکم تھا جس کی رو سے وہ لڑتے تھے ان کو تو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کا حکم تھا۔الخام جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۳) اب تلوار سے کام لینا تو اسلام پر تلوار مارنی ہے اب تو دلوں کو فتح کرنے کا وقت ہے اور یہ بات جبر سے نہیں ہو سکتی۔یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تلوار اٹھائی بالکل غلط ہے۔تیرہ برس تک آنحضرت اور صحابہ کرام صبر کرتے رہے پھر باوجود اس کے کہ دشمنوں کا تعاقب کرتے تھے مگر صلح کے خواستگار ہوتے تھے کہ کسی طرح جنگ نہ ہو اور جو مشرک قو میں صلح اور امن کی خواستگار ہوتیں ان کو امن دیا جاتا اور صلح کی جاتی۔اسلام نے بڑے بڑے پیچوں سے اپنے آپ کو جنگ سے بچانا چاہا ہے۔جنگ کی بنیاد کو خود خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ چونکہ یہ لوگ بہت مظلوم ہیں اور ان کو ہر طرح سے دکھ دیا گیا ہے اس لئے اب اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ یہ بھی ان کے مقابلہ پر لڑیں۔(البدر جلد اول نمبر ، امورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۷۴ )