تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 389

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ سورة الحج کرتے ہیں۔آپ نے کبھی اشاعت مذہب کے لئے تلوار نہیں اُٹھائی۔جب آپ پر اور آپ کی جماعت پر مخالفوں کے ظلم انتہا تک پہنچ گئے اور آپ کے مخلص خدام میں سے مردوں اور عورتوں کو شہید کر دیا گیا اور پھر مدینہ تک آپ کا تعاقب کیا گیا اُس وقت مقابلہ کا حکم ملا۔آپ نے تلوار نہیں اٹھائی مگر دشمنوں نے تلوار اٹھائی بعض اوقات آپ کو ظالم طبع کفار نے سر سے پاؤں تک خون آلود کر دیا تھا مگر آپ نے مقابلہ نہیں کیا۔خوب یا درکھو کہ اگر تلوار اسلام کا فرض ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اُٹھاتے مگر نہیں وہ تلوار جس کا ذکر ہے وہ اُس وقت اٹھی جب موذی کفار نے مدینہ تک تعاقب کیا۔اس وقت مخالفین کے ہاتھ میں تلوار تھی مگر اب تلوار نہیں۔۔۔۔اور اسلام کے خلاف صرف قلم سے کام لیا جاتا ہے۔پھر قلم کا جواب تلوار سے دینے والا احمق اور ظالم ہوگا یا کچھ اور ؟ اس بات کو کبھی مت بھولو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے حد سے گزرے ہوئے ظلم و ستم پر تلوار اُٹھائی اور وہ حفاظت خود اختیاری تھی جو ہر مہذب گورنمنٹ کے قانون میں بھی جرم نہیں۔تعزیرات ہند میں بھی حفاظت خود اختیاری کو جائز رکھا ہے۔اگر ایک چور گھر میں گھس آوے اور وہ حملہ کر کے مارڈالنا چا ہے اس وقت اس چور کو اپنے بچاؤ کے لئے مارڈالنا جرم نہیں ہے۔پس جب حالت یہاں تک پہنچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار خدام شہید کر دیئے گئے اور مسلمان ضعیف عورتوں تک کو نہایت سنگدلی اور بے حیائی کے ساتھ شہید کیا گیا تو کیا حق نہ تھا کہ ان کو سزادی جاتی۔اس وقت اگر اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ اسلام کا نام ونشان نہ رہے تو البتہ یہ ہو سکتا تھا کہ تلوار کا نام نہ آتا مگر وہ چاہتا تھا کہ اسلام دنیا میں پھیلے اور دنیا کی نجات کا ذریعہ ہو اس لئے اُس وقت محض مدافعت کے لئے تلوار اُٹھائی گئی۔میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ اسلام کا اُس وقت تلوار اُٹھا نا کسی قانون، مذہب اور اخلاق کی رُو سے قابل اعتراض نہیں ٹھہرتا۔وہ لوگ جو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دیتے ہیں وہ بھی صبر نہیں کر سکتے۔اور جن کے ہاں کیڑے کا مارنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے وہ بھی نہیں کر سکتے۔پھر اسلام پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ میں یہ بھی کھول کر کہتا ہوں کہ جو جاہل مسلمان یہ لکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا ہے وہ نبیاء معصوم علیہ الصلوۃ والسلام پر افترا کرتے ہیں اور اسلام کی ہتک کرتے ہیں۔خوب یا درکھو کہ اسلام ہمیشہ اپنی پاک تعلیم اور ہدایت اور اس کے ثمرات انوار و برکات اور معجزات سے پھیلا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان نشانات، آپ کے اخلاق کی پاک تاثیرات نے اسے پھیلایا ہے۔اور وہ نشانات اور