تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 388

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۸ سورة الحج بھی ایسا پہلو نہ رہا جو مخالفوں نے ان کے لئے نہ برتا ہو یہاں تک کہ کئی مسلمان مرد اور کئی مسلمان عورتیں ان کے ہاتھ سے شہید بھی ہو گئے اور ان کے ہر وقت کے ایسے شدید ظلموں سے تنگ آکر بحکم الہی شہر بھی چھوڑنا پڑا جب مدینہ منورہ کو تشریف لے گئے اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا۔جب ان کے ظلموں اور شرارتوں کی بات انتہا تک پہنچ گئی تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو اس مظلومانہ حالت میں مقابلہ کاحکم دیا اور وہ بھی اس لئے کہ شریر اپنی شرارت سے باز آجائیں اور ان کی شرارت سے مخلوق خدا کو بچایا جائے اور ایک حق پرست قوم اور دینِ حق کے لئے راہ کھل جاوے ورنہ کوئی بتلاوے کہ مکہ میں تیرہ سال تک رہ کر کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا باپ مارا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کے لئے بدی نہیں چاہی۔آپ تو رحم مجسم تھے اگر بدی چاہتے تو جب آپ نے انہی ظالموں پر پورا تسلط حاصل کر لیا تھا اور شوکت اور غلبہ آپ کو مل گیا تھا تو آپ ان تمام ظالم آئمۃ الکفر کو جو ہمیشہ آپ کو دکھ دیتے رہتے اور بغاوت پر تلے رہتے تھے قتل کروا دیتے تو کون پوچھتا تھا۔( تقریریں جلسہ سالانہ ۱۹۰۴ صفحه ۲۸) سارا قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں اور صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ جن لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں دین کو جبر شائع کرنے کے لئے نہیں تھیں بلکہ یا تو بطور سز تھیں یعنی اُن لوگوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِیر یعنی ان مسلمانوں کو جن سے کفار جنگ کر رہے ہیں بسبب مظلوم ہونے کے مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ جو ان کی مدد کرے۔اور یا وہ لڑائیاں ہیں جو بطور مدافعت تھیں یعنی جو لوگ اسلام کے نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کو شائع ہونے سے جبرا روکتے تھے ان سے بطور حفاظت خود اختیاری یا ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ اسلام نے غیر قوموں کے ظلم کی اس قدر برداشت کی ہے جو اس کی دوسری قوموں میں نظیر نہیں ملتی۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۷۴) اکثر مسلمان مجھ پر حملہ کرتے ہیں کہ تمہارے سلسلہ میں یہ عیب ہے کہ تم جہاد کو موقوف کرتے ہو۔مجھے افسوس ہے کہ وہ نادان اس کی حقیقت سے محض نا واقف ہیں۔وہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام