تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 387
۳۸۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحج ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز کسی پر تلوار نہیں اٹھائی بجز ان لوگوں کے جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی اور سخت بے رحمی سے بے گناہ اور پرہیز گار مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور ایسے دردانگیز طریقوں سے مارا کہ اب بھی ان قصوں کو پڑھ کر رونا آتا ہے۔( گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۸) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں خود سبقت کر کے ہرگز تلوار نہیں اُٹھائی بلکہ ایک زمانہ دراز تک کفار کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھایا اور اس قدر صبر کیا جو ہر ایک انسان کا کام نہیں اور ایسا ہی آپ کے اصحاب بھی اسی اعلیٰ اصول کے پابند رہے اور جیسا کہ اُن کو حکم دیا گیا تھا کہ دکھ اٹھاؤ اور صبر کرو ایسا ہی انہوں نے صدق اور صبر دکھا یا۔وہ پیروں کے نیچے کچلے گئے انہوں نے دم نہ مارا۔اُن کے بچے اُن کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے وہ آگ اور پانی کے ذریعہ سے عذاب دیئے گئے مگر وہ شتر کے مقابلہ سے ایسے باز رہے کہ گویا وہ شیر خوار بچے ہیں۔کون ثابت کر سکتا ہے کہ دنیا میں تمام نبیوں کی اُمتوں میں سے کسی ایک نے بھی باوجود قدرت انتقام ہونے کے خدا کا حکم سُن کر ایسا اپنے تئیں عاجز اور مقابلہ سے دستکش بنالیا جیسا کہ انہوں نے بنایا؟ کس کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں کوئی اور بھی ایسا گروہ ہوا ہے جو باوجود بہادری اور جماعت اور قوت بازو اور طاقت مقابلہ اور پائے جانے تمام لوازم مردی اور مردانگی کے پھر خونخوار دشمن کی ایذا اور زخم رسانی پر تیرہ برس تک برابر صبر کرتا رہا؟ ہمارے سید و مولی اور آپ کے صحابہ کا یہ صبر کسی مجبوری سے نہیں تھا بلکہ اس صبر کے زمانہ میں بھی آپ کے جان نثار صحابہ کے وہی ہاتھ اور باز و تھے جو جہاد کے حکم کے بعد انہوں نے دکھائے اور بسا اوقات ایک ہزار جوان نے مخالف کے ایک لاکھ سپاہی نبرد آزما کو شکست دے دی۔ایسا ہوا تا لوگوں کو معلوم ہو کہ جو مکہ میں دشمنوں کی خون ریزیوں پر صبر کیا گیا تھا اس کا باعث کوئی بزدلی اور کمزوری نہیں تھی بلکہ خدا کا حکم سن کر انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور بکریوں اور بھیٹروں کی طرح ذبح ہونے کو طیار ہو گئے تھے۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۰) بعض لوگ جن کو حق کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے جب ایسی تعلیم سنتے ہیں تو اور کچھ نہیں تو یہی اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام میں اگر ہمدردی کی تعلیم ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لڑائیاں کیوں کرتے۔وہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطر ناک دکھ اور تکلیف پر تکلیف اٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی صرف مدافعت کے طور پر۔تیرہ برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکلیف اُٹھاتے رہے۔ان کے عزیز دوست اور یاروں کو سخت سخت عذاب دیا جاتا رہا۔اور جور و ظلم کا کوئی