تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 380

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۰ سورة الحج لڑائیوں سے ناراض ہو جو مظلوم ہونے کی حالت میں یا امن قائم کرنے کی غرض سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم کو کرنی پڑی تھیں۔(حجۃ الاسلام، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۷٫۴۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں کی ہرگز یہ غرض نہ تھی کہ خواہ مخواہ لوگوں کو قتل کیا جائے۔وہ اپنے باپ دادا کے ملک سے نکالے گئے تھے اور بہت سے مسلمان مرد اور عورتیں بے گناہ شہید کئے گئے تھے۔اور ابھی ظالم ظلم سے باز نہیں آتے تھے اور اسلام کی تعلیم کو روکتے تھے۔لہذا خدا کے قانون حفاظت نے یہ چاہا کہ مظلوموں کو بالکل نابود ہونے سے بچالے۔سوجنہوں نے تلوار اٹھائی تھی انہیں کے ساتھ تلوار کا مقابلہ ہوا۔غرض قتل کرنے والوں کا فتنہ فرو کرنے کے لئے بطور مدافعت شر کے وہ لڑائیاں تھیں اور اس وقت ہو ئیں جبکہ ظالم طبع لوگ اہل حق کو نابود کرنا چاہتے تھے۔اس حالت میں اگر اسلام اس حفاظت خود اختیاری کو عمل میں نہ لاتا تو ہزاروں بچے اور عورتیں بیگناہ قتل ہو کر آخر اسلام نابود ہو جاتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۵۱،۴۵۰) اعْلَمُوا أَنَّ قَتْلَ النَّاسِ مِنْ غَيْرِ جان لو کہ بغیر تفہیم وتبلیغ اور بغیر اتمام حجت کے تَفْهِيْمٍ وَتَبْلِيغِ وَإِثْمَامِ حُجَةٍ أَمْرٌ شَنِيْعُ لا لوگوں کا قتل کرنا ایک ایسی بری بات ہے جسے کوئی عقل يَرْطى بِهِ أَهْلُ فِطْنَةٍ وَلَا نُورُ فِطرة مند اور روشن ضمیر پسند نہیں کرتا۔پس کیسے یہ مکروہ عمل فَكَيْفَ يُعزى إِلَى اللهِ الْعَادِلِ الرَّحِيْمِ، عادل و رحیم اور محسن و مہربان اور کریم خدا کی طرف وَالْمَتَانِ الرُّؤُوفِ الْكَرِيمِ؟ وَلَوْ كَانَ هذا منسوب کیا جا سکتا ہے۔اگر یہ امر جائز ہوتا تو اس کے جَائِزًا لَكَانَ أَحَقِّ بِهِ سَيِّدُنَا خَيْرُ الْبَرِيَّةِ، سب سے زیادہ مستحق ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ وَقَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ صَبَرَ مُدَّةً طَوِيْلَةً عَلى علیہ وسلم ہوتے۔اور تمہیں یہ علم ہے کہ آپ نے کافروں تَطَاوُلِ الْكَفَرِةِ الْفَجَرَةِ، وَرَاى مِنْهُمْ اور فاجروں کی سرکشی پر ایک لمبا عرصہ صبر کیا اور ان کی كَثِيرًا مِنَ الظُّلْمِ وَالْأَذِيَّةِ، وَأَنْوَاعِ الشَّدّة طرف سے بہت سے ظلم اور اذیتیں اور طرح طرح کی وَالصُّعُوبَةِ، حَتَّى أَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَلْدَةِ ثُمَّ سختیاں اور صعوبتیں دیکھیں یہاں تک کہ کافروں نے أَهْرَعُوا إِلَيْهِ مُتَعَاقِبِينَ مُغَاضِبِيْنَ بِنِيَّةِ آپ کو مکہ معظمہ سے نکال دیا۔پھر غضبناک ہو کر آپ الْقَتْلِ وَالْإِبَادَةِ فَصَبَرَ صَبْرًا لَا يُوجَدُ کو قتل کرنے کی نیت سے آپ کا تعاقب کیا لیکن نَظِيرُهُ في أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِ حَطرَةِ الْعِزَّةِ آنحضرت نے ایسا صبر کیا جس کی نظیر گذشتہ پیغمبروں