تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 378

۳۷۸ پر سورة الحج تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہ لوگ کہ جو تمہارے ناحق کے جنگوں اور قتل کے ارادوں سے ظلم رسیدہ ہیں ان کی نسبت مدد دینے کا حکم ہو چکا ہے اور خدان کی مدد پر قادر ہے۔( براتان احمد یہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۶۲ حاشیہ نمبر ۱۱) قرآن شریف میں ہرگز ہرگز جبر کی تعلیم نہیں ہے۔پہلے کفار نے ابتداء کر کے صدہا مومنوں کو تکلیفیں دیں۔قتل کیا۔وطنوں سے نکالا اور پھر تعاقب کیا اور جب اُن کا ظلم حد سے بڑھ گیا اور اُن کے جرائم خدائے تعالیٰ کی نظر میں سزا دہی کے لائق ٹھہر گئے تب اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلى نَصْرِهِمُ لقدیر (س ۱۷(۱۳) یعنی جن لوگوں پر یعنی مسلمانوں پر ظلم ہوا اور اُن کے قتل کرنے کے لئے اقدام کیا گیا۔اب اللہ تعالیٰ بھی انھیں مقابلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔پھر چونکہ عرب کے لوگ بباعث ناحق کی خونریزیوں کے جو وہ پہلے کر چکے تھے اور بری بری ابتداؤں سے مسلمانوں کو قتل کر چکے تھے اس لئے ایک شخصی قصاص کے وہ مستحق ہو گئے تھے۔اور اس لائق تھے کہ جیسا انہوں نے ناحق بے گناہوں کو بڑے بڑے عذاب پہنچ کر قتل کیا ایسا ہی ان کو بھی قتل کیا جائے۔اور جیسا کہ انہوں نے مسلمانوں کو اپنے وطنوں سے نکال کر تباہی میں ڈالا اور اُن کے مالوں اور جائدادوں اور گھروں پر قبضہ کر لیا ایسا ہی اُن کے ساتھ بھی کیا جائے۔لیکن خدائے تعالیٰ نے رحم کے طور پر جیسی اور رعائتیں کی ہیں کہ اُن کے بچے نہ مارے جاویں اور اُن کی عورتیں قتل نہ ہوں ایسا ہی یہ بھی رعایت کر دی کہ اگر اُن میں سے کوئی مقتول ہونے سے پہلے خود بخود ایمان لے آوے تو وہ اس سزا سے بچایا جاوے جو بوجہ اس کے پہلے جرائم اور خونریزیوں کے اُس پر واجب ہوتی تھی۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶۲، ۲۶۳) اسلام کی لڑائیاں ایسے طور سے نہیں ہو ئیں کہ جیسے ایک زبر دست بادشاہ کمزور لوگوں پر چڑھائی کر کے ان کو قتل کر ڈالتا ہے بلکہ صحیح نقشہ ان لڑائیوں کا یہ ہے کہ جب ایک مدت دراز تک خدا تعالیٰ کا پاک نبی اور اس کے پیر و مخالفوں کے ہاتھ سے دکھ اٹھاتے رہے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور کئی برے برے ے برے عذابوں سے مارے گئے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم کے قتل کرنے کے لئے منصوبہ کیا گیا اور یہ تمام کامیابیاں ان کے بتوں کے معبود برحق ہونے پر حمل کی گئیں اور ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلعم کو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لئے آئے تو اس وقت ان کے حملہ کے روکنے کے لئے اور نیز ان لوگوں کو امن میں لانے کے لئے جو اُن کے ہاتھ میں قیدیوں کی طرح تھے اور نیز اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ ان کے معبود جن کی تائید پر یہ سابقہ کامیابیاں حمل کی گئی ہیں