تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 375
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۵ سورة الحج پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لئے قرآن شریف پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا کرے تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا؟ ہر گز نہیں۔وَمَنْ يُعْظِمْ شَعَابِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ - ( الحکم جلد ۸ نمبر ۲۶،۲۵ مورخه ۳۱ جولائی و ۱۰ /اگست ۱۹۰۴ صفحه ۱۴) b لَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَ لكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدِيكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ۔راستباز لوگ روح اور روحانیت کی رو سے خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں نہ یہ کہ اُن کا گوشت اور پوست اور اُن کی ہڈیاں خدائے تعالیٰ تک پہنچ جاتی ہیں۔خدائے تعالیٰ خود ایک آیت میں فرماتا ہے لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُم یعنی خدائے تعالیٰ تک گوشت اور خون قربانیوں کا ہر گز نہیں پہنچتا بلکہ اعمال صالحہ کی رُوح جو تقویٰ اور طہارت ہے وہ تمہاری طرف سے پہنچتی (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۷) ہے۔قانونِ قدرت قدیم سے ایسا ہی ہے کہ یہ سب کچھ معرفت کاملہ کے بعد ملتا ہے۔خوف اور محبت اور قدردانی کی جڑھ معرفت کا ملہ ہے پس جس کو معرفت کا ملہ دی گئی اس کو خوف اور محبت بھی کامل دی گئی اور جس کو خوف اور محبت کامل دی گئی اُس کو ہر ایک گناہ سے جو بیا کی سے پیدا ہوتا ہے نجات دی گئی۔پس ہم اس نجات کے لئے نہ کسی خون کے محتاج ہیں اور نہ کسی صلیب کے حاجتمند اور نہ کسی کفارہ کی ہمیں ضرورت ہے بلکہ ہم صرف ایک قربانی کے محتاج ہیں جو اپنے نفس کی قربانی ہے۔جس کی ضرورت کو ہماری فطرت محسوس کر رہی ہے۔ایسی قربانی کا دوسرے لفظوں میں نام اسلام ہے۔اسلام کے معنے ہیں ذبح ہونے کے لئے گردن آگے رکھ دینا یعنی کامل رضا کے ساتھ اپنی روح کو خدا کے آستانہ پر رکھ دینا یہ پیارا نام تمام شریعت کی روح اور تمام احکام کی جان ہے۔ذبیح ہونے کے لئے اپنی دلی خوشی اور رضا سے گردن آگے رکھ دینا کامل محبت اور کامل عشق کو چاہتا ہے اور کامل محبت کامل معرفت کو چاہتی ہے۔پس اسلام کا لفظ اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقی قربانی کے لئے کامل معرفت اور کامل محبت کی ضرورت ہے نہ کسی اور چیز کی ضرورت۔اسی کی طرف خدا تعالی قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے لَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ یعنی تمہاری ( قربانیوں) کے نہ تو گوشت میرے تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ خون بلکہ