تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 373

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحج بچوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بہت سے کم نہیں۔جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بہت ہے۔سچی گواہی دو اگر چہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔چاہیئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔(ازالہ اوبام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۵۰) قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۰۳) بتوں کی پرستش اور جھوٹ بولنے سے پر ہیز کر ولیعنی جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔سو جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۱) بتوں سے اور جھوٹ سے پر ہیز کرو کہ یہ دونوں نا پاک ہیں۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۵۷) حرام خوری اس قدر نقصان نہیں پہنچاتی جیسے قول زور۔اس سے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ حرام خوری اچھی چیز ہے۔یہ سخت غلطی ہے اگر کوئی ایسا سمجھے۔میرا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اضطرار اسٹور کھالے تو یہ امر دیگر ہے لیکن اگر وہ اپنی زبان سے خنزیر کا فتویٰ دے دے تو وہ اسلام سے دور نکل جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال ٹھہراتا ہے۔غرض اس سے معلوم ہوا کہ زبان کا زیاں خطر ناک ہے اس لئے متقی اپنی زبان کو بہت ہی قابو میں رکھتا ہے۔اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی جو تقویٰ کے خلاف ہو۔پس تم اپنی زبانوں پر حکومت کرو نہ یہ کہ زبا نہیں تم پر حکومت کریں اور اناپ شناپ بولتے رہو۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۴) قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّور دیکھو یہاں جھوٹ کو بت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بت ہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔اگر جھوٹ