تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 372
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۲ سورة الحج کون سی چیز ہے جس کے وجود پر نظر کرنے سے مفت غنی اور بے نیاز ہونے کی اس میں پائی جاتی ہے تا کوئی اس کو اپنا معبود ٹھہر اوے اور جبکہ کوئی چیز بجز خدا کے غنی اور بے نیاز نہیں تو تمام مخلوق پرستوں کا باطل پر ہونا (براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۵،۵۲۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) ثابت ہے۔واذ بوانَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَ طَهَّرُ بَيْتِيَ لطايفينَ وَالْقَالِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ قَوْلُهُ تَعَالَى إِذْ بَوَانَا لا بُراهِيمَ مَكَانَ خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ یاد کر جب ہم نے ابراہیم کو دوبارہ الْبَيْتِ دَلِيْلٌ عَلى كَونِ مَكَّةَ اوّل بنانے کے لئے وہ مکان دکھلا یا جہاں ابتداء میں بیت اللہ تھا الْعِمَارَاتِ فَلَا تَسْكُتُ كَالْمَتِت وَ کُن یہ قول صاف بتلا رہا ہے کہ مکہ دنیا میں پہلی عمارت ہے۔پس مِنَ الْمُتَيَفِظِينَ۔فَحَاصِلُ الْمَقَالَتِ آن مردہ کی طرح چپ مت ہو جا اور جاگنے والوں کی طرح ہو۔مَكَّةَ كَانَتْ أَوَّلَ الْعِمَارَاتِ ثُمَّ خَرَبَتْ پس حاصل کلام یہ کہ مکہ دنیا میں پہلی عمارت تھی پھر حادثات مِنَ الْحَادِثَاتِ وَسَيْلِ الْأَفَاتِ اور سیل آفات سے خراب ہو گیا۔منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۳۳) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) ذلِكَ وَ مَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِنْدَ رَبِّهِ ۖ وَ أُحِلَّتْ لَكُمْ الأَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُم فَاجْتَنِبُوا الرّجُسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الدورة فَاجْتَنِبُوا الرّجسَ ۱۰۰۰۰لخ سواس پلیدی سے جو بت ہیں پر ہیز کرو اور دروغ گوئی سے باز آؤ۔( براہینِ احمد یہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ نا انصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔حق کو قبول کر لو اگر چہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ يعنى