تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 361
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد ہو۔۳۶۱ سورة الانبياء (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۴) اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ الارض سے مراد جو شام کی سرزمین ہے یہ صالحین کا ورثہ ہے اور جواب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔خدا تعالیٰ نے يَرِثُهَا فرمایا تملِکھا نہیں فرمایا۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وارث اس کے مسلمان ہی رہیں گے اور اگر یہ کسی اور کے قبضہ میں کسی وقت چلی بھی جاوے تو وہ قبضہ اس قسم کا ہوگا جیسے راہن اپنی چیز کا قبضہ مرتہن کو دے دیتا ہے یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کی عظمت ہے۔ارضِ شام چونکہ انبیاء کی سرزمین ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس کی بے حرمتی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ غیروں کی میراث ہو۔يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّلِحُونَ فرما یا صالحین کے معنے یہ ہی کہ کم از کم صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو۔مومن کی م جو تقسیم قرآن شریف میں کی گئی ہے اس کے تین ہی درجے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔ظالم ، مقتصد ، سابق بالخیرات۔میدان کے مدارج ہیں ورنہ اسلام کے اندر یہ داخل ہیں۔ظالم وہ ہوتا ہے کہ ابھی اس میں بہت غلطیاں اور کمزوریاں ہیں اور مقتصد وہ ہوتا ہے کہ نفس اور شیطان سے اس کی جنگ ہوتی ہے مگر کبھی یہ غالب آجا تا اور کبھی مغلوب ہوتا ہے۔کچھ غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور صلاحیت بھی اور سابق بالخیرات وہ ہوتا ہے جو ان دونوں درجوں سے نکل کر مستقل طور پر نیکیاں کرنے میں سبقت لے جاوے اور بالکل صلاحیت ہی ہو۔نفس اور شیطان کو مغلوب کر چکا ہو۔قرآن شریف ان سب کو مسلمان ہی کہتا ہے۔ہماری جماعت ہی کو دیکھ لو کہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ سب کی سب ہمارے مخالفوں ہی سے نکل کر بنی ہے اور ہر روز جو بیعت کرتے ہیں یہ ان میں ہی سے آتے ہیں ان میں صلاحیت اور سعادت نہ ہوتی تو یہ کس طرح نکل کر آتے۔بہت سے خطوط اس قسم کی بیعت کرنے والوں کے آئے ہیں کہ پہلے میں گالیاں دیا کرتا تھا مگر اب تو بہ کرتا ہوں مجھے معاف کیا جاوے۔غرض صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو تو وہ صالحین میں داخل سمجھا جاتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۷) اِنَّ فِي هَذَا البَلغَا لِقَوْمٍ عَبدِينَ۔اس میں ان لوگوں کے لئے جو پرستار ہیں حقیقی پرستش کی تعلیم ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۴) وہ حکمت بالغہ ہے اس میں ہر یک چیز کا بیان ہے۔الحق لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۰)