تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 359

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۹ سورة الانبياء لائق ہیں تو کفار ایسی مخالفت نہ کرتے مگر اپنے معبودوں کے حق میں ایسے کلمات سن کر وہ جوش میں آگئے۔لا ( بدر جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷) اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَا الْحُسْنَى أُولَبِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ لا لَا يَسْمَعُونَ ج حَسِيْسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَلِدُونَ ١٠٢ جو لوگ جنتی ہیں اور ان کا جنتی ہونا ہماری طرف سے قرار پا چکا ہے وہ دوزخ سے دور کئے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذت میں ہیں۔اس آیت سے مراد حضرت عزیر اور حضرت مسیح ہیں اور ان کا بہشت میں داخل ہو جانا اس سے ثابت ہوتا ہے جس سے ان کی موت بھی بپایہ ثبوت پہنچتی ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۶،۴۳۵) جو لوگ ہمارے وعدہ کے موافق بہشت کے لائق ٹھہر چکے ہیں وہ دوزخ سے دور کئے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذات میں ہیں۔تمام مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عیسی علیہ السلام کے حق میں ہے اور اس سے بصراحت و بداہت ثابت ہے کہ وہ بہشت میں ہیں۔پس ثابت ہوا کہ وہ وفات پاچکے ہیں ورنہ قبل از وفات بہشت میں کیوں کر پہنچ گئے۔ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۸) کتاب اللہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ طاعون رجز ہے ہمیشہ کا فروں پر نازل ہوتی ہے۔ہاں جیسا کہ جہنم خاص کافروں کے لئے مخصوص ہے تاہم بعض گنہ گار مومن جو جہنم میں ڈالے جائیں گے وہ محض تمحیص اور تطہیر اور پاک کرنے کے لئے دوزخ میں ڈالے جائیں گے مگر خدا کے وعدہ کے موافق جو اوليكَ عَنْهَا مُبعَدُونَ ہے برگزیدہ لوگ اس دوزخ سے دور رکھے جائیں گے اسی طرح طاعون بھی ایک جہنم ہے کا فراس میں عذاب دینے کے لئے ڈالے جاتے ہیں اور ایسے مومن جن کو معصوم نہیں کہہ سکتے اور معاصی سے پاک نہیں ہیں ان کے لئے یہ طاعون پاک کرنے کا ذریعہ ہے جس کو خدا نے جہنم کے نام سے پکارا ہے۔سو طاعون ادنی مومنوں کے لئے تجویز ہو سکتی ہے جو پاک ہونے کے محتاج ہیں مگر وہ لوگ جو خدا کے قرب اور محبت میں بلند مقامات پر ہیں وہ ہر گز اس جہنم میں داخل نہیں ہو سکتے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۴۴) يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَى السّجِلِ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَ أَنَا أَوَّلَ خَلْقِ نُعِيدُهُ