تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 10

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہ احسان کے ارادہ سے۔سورة ابراهيم جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۳ تا ۱۲۷) کلمہ طیبہ درخت کی مثال ہے۔اب اس جگہ اللہ تعالیٰ نے کھول دیا کہ وہ ایمان جو ہے وہ طبور تخم اور شجر کے ہے اور اعمال جو ہیں وہ آبپاشی کی بجائے ہیں۔قرآن شریف میں کسان کی مثال ہے کہ جیسا وہ زمین میں تخم ریزی کرتا ہے ویسا ہی یہ ایمان کی تخم ریزی ہے۔وہاں آبپاشی ہے یہاں اعمال۔یا درکھنا چاہئے کہ ایمان بغیر اعمال کے ایسا ہے جیسے کوئی باغ بغیر انہار کے جو درخت لگایا جاتا ہے اگر مالک اس کی آبپاشی کی طرف توجہ نہ کرے تو ایک دن خشک ہو جائے گا اسی طرح ایمان کا حال ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا (العنکبوت : ۷۰) یعنی تم ہلکے ہلکے کام پر نہ رہو بلکہ اس راہ میں بڑے بڑے مجاہدات کی ضرورت ہے۔البدر جلد نمبر ۲۵ مورخه ۲۵/جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۵) کلمات قرآن کے اس درخت کی مانند ہیں جس کی جڑھ ثابت ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہمیشہ اپنے وقت پر اپنا پھل دیتا ہے یعنی انسان کی سلیم فطرت اس کو قبول کرتی ہے اور آسمان میں شاخوں کے ہونے سے یہ مراد ہے کہ بڑے بڑے معارف پر مشتمل ہے جو قانون قدرت کے موافق ہیں اور ہمیشہ پھل دینے سے یہ مراد ہے کہ دائمی طور پر روحانی تاثیرات اپنے اندر رکھتا ہے۔کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۵۳) پاک کلمہ پاک درخت کی مانند ہے پس جیسا کہ کوئی عمدہ اور شریف درخت بغیر پانی کے نشو و نما نہیں کر سکتا۔اسی طرح راستباز انسان کے کلمات طیبہ جو اس کے منہ سے نکلتے ہیں اپنی پوری سرسبزی دکھلا نہیں سکتے اور نہ نشوونما کر سکتے ہیں جب تک وہ پاک چشمہ ان کی جڑھوں کو استغفار کے نالے میں بہہ کر تر نہ کرے۔سو انسان کی روحانی زندگی استغفار سے ہے جس کے نالے میں ہو کر حقیقی چشمہ انسانیت کی جڑھوں تک پہنچتا ہے اور خشک ہونے اور مرنے سے بچالیتا ہے۔نور القرآن نمبر ا روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۸،۳۵۷) وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ إِجْتُنَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قراره ا نا پاک کلمہ کی مثال اس ناپاک درخت کی ہے جو زمین پر سے اکھڑا ہوا ہے اور اس کو قرار وثبات نہیں۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۳)