تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 351

۳۵۱ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء کہ یا جوج ماجوج کی سرشت میں ارضی جو ہر کا کمال تام ہے جیسا کہ معدنی جواہرات میں اور فلذات میں کمال تام ہوتا ہے۔اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ زمین نے اپنے انتہائی خواص ظاہر کر دیئے اور بموجب آیت وَ اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ اثْقالها اپنے اعلیٰ سے اعلیٰ جو ہر کو ظاہر کر دیا۔اور یہ امر استدارت زمانہ پر ایک دلیل ہے۔یعنی جب یا جوج ماجوج کی کثرت ہوگی تو سمجھا جائے گا کہ زمانہ نے اپنا پورا دائرہ دکھلا دیا اور پورے دائرہ کو رجعت بروزی لازم ہے۔اور یا جوج ماجوج پر ارضی کمال کا ختم ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ گویا آدم کی خلقت الف سے شروع ہو کر جو آدم کے لفظ کے حرفوں میں سے پہلا حرف ہے اس یا کے حرف پر ختم ہوگئی کہ جو یا جوج کے لفظ کے سر پر آتا ہے جو حروف کے سلسلہ کا آخری حرف ہے۔گویا اس طرح پر یہ سلسلہ الف سے شروع ہو کر اور پھر حرف یا پر ختم ہو کر اپنے طبعی کمال کو پہنچ گیا۔خلاصہ کلام یہ کہ آیت ممدوحہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بروزی رجوع جو استدارت دائرہ خلقت بنی آدم کے لئے ضروری ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ یا جوج ماجوج کا ظہور اور خروج اقومی اور اتم طور پر ہو جائے اور ان کے ساتھ کسی غیر کو طاقت مقابلہ نہ رہے کیونکہ دائرہ کے کمال کو یہ لازم ہے کہ اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا کا مفہوم کامل طور پر پورا ہو جائے اور تمام ارضی قوتوں کا ظہور اور بروز ہو جائے اور یاجوج ماجوج کا وجود اس بات پر دلیل کامل ہے کہ جو کچھ ارضی قو تیں اور طاقتیں انسان کے وجود میں ودیعت ہیں وہ سب ظہور میں آگئی ہیں کیونکہ اس قوم کی فطرتی اینٹ ارضی کمالات کے پڑاوہ میں ایسے طور سے پختہ ہوئی ہے کہ اس میں کسی کو بھی کلام نہیں۔اسی ستر کی وجہ سے خدا نے ان کا نام یا جوج ماجوج رکھا کیونکہ ان کی فطرت کی مٹی ترقی کرتے کرتے کانی جواہرات کی طرح آتشی مادہ کی پوری وارث ہو گئی اور ظاہر ہے کہ مٹی کی ترقیات آخر جواہرات اور فلذات معدنی پر ختم ہو جاتی ہیں۔تب معمولی مٹی کی نسبت اُن جواہرات اور فلذات میں بہت سا مادہ آگ کا آجاتا ہے گویا مٹی کا انتہائی کمال نے کمال یافتہ کو آگ کے قریب لے آتا ہے اور پھر جنسیت کی کشش کی وجہ سے دوسرے آتشی لوازم اور کمالات بھی اسی مخلوق کو دیئے جاتے ہیں۔غرض بنی آدم کا یہ آخری کمال ہے کہ بہت سا آتشی حصہ اُن میں داخل ہو جائے اور یہ کمال یا جوج ماجوج میں پایا جاتا ہے۔اور جو کچھ اس قوم کو دنیا اور دنیا کی تدابیر میں دخل ہے اور جس قدر اس قوم نے دنیوی زندگی کو رونق اور ترقی دی ہے اس سے بڑھ کر کسی کے قیاس میں متصور نہیں۔پس اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ انسان کے ارضی قومی کا عطر ہے جو اب وہ یا جوج ماجوج کے ذریعہ سے نکل رہا ہے۔لہذا یا جوج ماجوج کا ظہور اور