تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 350

۳۵۰ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء اس جگہ ایک لطیفہ بیان کرنے کے لائق ہے جس سے ظاہر ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں ایک زمانہ مقدر تھا جس میں فوت شدہ روحیں بروزی طور پر آنے والی تھیں۔اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یعنی سورہ انبیاء جز و نمبر ۱۷ میں ایک پیشگوئی کی ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ ہلاک شدہ لوگ یا جوج ماجوج کے زمانہ میں پھر دنیا میں رجوع کریں گے اور وہ یہ آیت ہے وَ حَرَمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ - حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَاجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ - (تحفہ گولار و یه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۹۷) یعنی جن لوگوں کو ہم نے ہلاک کیا ہے اُن کے لئے ہم نے حرام کر دیا ہے کہ دوبارہ دنیا میں آویں۔یعنی بروزی طور پر بھی وہ دنیا میں نہیں آسکتے جب تک وہ دن نہ آویں کہ قوم یا جوج ماجوج زمین پر غالب آجائے اور ہر ایک طور سے ان کو غلبہ حاصل ہو جائے۔کیونکہ انسان کے ارضی قوی کی کامل ترقیات یا جوج ماجوج پر ختم ہوتی ہیں اور اس طرح پر انسان کے ارضی قوی کا نشو نما جو ابتدا سے ہوتا چلا آیا ہے وہ محض یا جوج ماجوج کے وجود سے کمال کو پہنچتا ہے لہذا یا جوج ماجوج کے ظہور کا زمانہ رجعت بروزی کے زمانہ پر دلیل قاطع ہے کیونکہ یا جوج ماجوج کا ظہور استدارت زمانہ پر دلیل ہے اور استدارت زمانہ رجعت بروزی کو چاہتا ہے۔سو مسیح عیسی بن مریم کی نسبت رجعت کا جو عقیدہ ہے اُس عقیدہ کے موافق عیسی مسیح کی آمد ثانی کا یہی زمانہ ہے۔سو وہ آمدثانی بروزی طور پر ظہور میں آگئی۔(تحفہ گولڑو بیه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۱۵ تا۳۲۱) یا جوج ماجوج سے وہ قوم مراد ہے جن کو پورے طور پر ارضی قومی ملیں گے اور ان پر ارضی قوی کی ترقیات کا دائرہ ختم ہو جائے گا۔یا جوج ماجوج کا لفظ امیج سے لیا گیا ہے جو شعلہ نار کو کہتے ہیں۔پس یہ وجہ تسمیہ ایک تو بیرونی لوازم کے لحاظ سے ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ یا جوج ماجوج کے لئے آگ مسخر کی جائے گی اور وہ اپنے دنیوی تمدن میں آگ سے بہت کام لیں گے۔اُن کے بڑی اور بحری سفر آگ کے ذریعہ سے ہوں گے۔ان کی لڑائیاں بھی آگ کے ذریعہ سے ہوں گی۔ان کے تمام کاروبار کے انجن آگ کی مدد سے چلیں گے۔دوسری وجہ تسمیہ لفظ یا جوج ماجوج کے اندرونی خواص کے لحاظ سے ہے اور وہ یہ ہے کہ اُن کی سرشت میں آتشی مادہ زیادہ ہوگا۔وہ قومیں بہت تکبر کریں گی اور اپنی تیزی اور چستی اور چالا کی میں آتشی خواص دکھلائیں گی اور جس طرح مٹی جب اپنے کمال تام کو پہنچتی ہے تو وہ حصہ مٹی کا کانی جو ہر بن جاتا ہے جس میں آتشی مادہ زیادہ ہو جاتا ہے۔جیسے سونا چاندی اور دیگر جواہرات۔پس اس جگہ قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے