تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 334
۳۳۴ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء رنجیدہ ہو کر دعا کی کہ اب میرا مرنا بہتر ہے۔۔۔۔۔۔اس معافی سے عیسائیوں کے کفارہ کی بھی بینچ کنی ہوگئی کیونکہ یونس کی قوم صرف اپنی تو بہ اور استغفار سے بچ گئی اور یونس تو یہی چاہتا تھا کہ ان پر عذاب نازل ہو۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۲۳، ۱۲۴ حاشیه ) أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ يَا أُولى الأَلْبَابِ أَنَّ اے عقلمند و اتم جانتے ہو کہ یونس کی قوم عذاب سے بچالی يَا قَوْمَ يُونُسَ عُصِمُوا مِنَ الْعَذَابِ مَعَ گئی حالانکہ خدا تعالی کی پیشگوئی میں تو بہ کی شرط نہیں تھی اور أَنه لَمْ يَكُن شَرْطُ التَّوْبَةِ في نَبا اللہ اسی وجہ سے یونس خدا تعالیٰ سے ناراض ہو کر چلے گئے اور رَبِّ الْأَرْبَابِ وَلِأَجْلِ ذلِكَ ذَهَبَ ابتلاء کے بیابانوں میں سرگرداں پھرتے رہے اور اس واقعہ يُونُسُ مُغَاضِبًا مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاء ، کی بناء پر اللہ نے آپ کا نام یونس رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وَتَاة في فَلَوَاتِ الإبتلاء ولذلك سلمان انہیں مایوسی کے بعد اطمینان وسکون عطا کیا اور نا امیدی کے اللَّهُ يُونُسَ لِأَنَّهُ أُونِسَ بَعْدَ الإِبلاس۔بعد با مراد ہوئے اور ارحم الراحمین خدا نے انہیں ضائع ہونے وَفَازَ بَعْدَ الْيَأْسِ وَمَا أَضَاعَةَ أَرْحَمُ سے بچا لیا۔یہ سب مصیبت (یونس علیہ السلام) پر محض اس لئے الرَّاحِمِينَ۔فَلَا شَكَ أَنَّ الْبَلَاءَ كُلَّهُ وَرَدَ آئی کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی میں کوئی شرط موجود نہ تھی۔اور اگر عَلَيْهِ لِعَلْمِ الشَّرْطِ في نَبَا الرَّحْمنِ انہیں کسی شرط کا علم ہوتا تو وہ ناراض ہو کر فرار اختیار نہ کرتے وَلَوْ كَانَ شَرط يَعْلَمُهُ لَمّا فَرّ اور نہ ہی مد ہوشوں کی طرح سرگرداں پھرتے اور جب حضرت كَالْغَضْبَانِ، وَلَمَا تَاةَ كَالْمَجْهُوتِينَ یونس علیہ السلام نے غلط فہمی کی بناء پر استقامت اور استقلال وَلَمَّا تَرَكَ يُونُسُ بِسُوءٍ فَهْمه کوترک کر دیا اور جلا وطنی اور نقل مکانی کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ الْاِسْتِقَامَةَ وَالْإِستقلال، وَتَحَری نے آپ کو مچھلی کے پیٹ میں داخل کر دیا۔پھر اس مچھلی نے الجلاء وَالانْتِقَالَ أَدْخَلَهُ اللهُ في بطن آپ کو ایک خشک اور چٹیل میدان میں پھینک دیا۔اور یہ الْحُوتِ، ثُمَّ نَبَلهُ الْحُوتُ في عَرَاء سب مشکلات آپ پر اس لئے آئیں کہ انہوں نے اپنی جگہ السُّبُرُوتِ، وَرَاى كُلّ ذلِك بمَا أَعْلَن کو ترک کر کے بیقراری اور تنگ دلی کا اظہار کیا اور اپنے ضَجَرَ قَلْبِهِ بِالْحَرَكَةِ مِنَ الْمَقَامِ مقام کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر چھوڑ دیا اور شتاب وَفَارَقَ مَقَرَّهُ مِنْ غَيْرِ إِذْنِ اللهِ الْعَلامِ کاروں کا رویہ اختیار کیا۔اللہ تعالیٰ کا انہیں مچھلی کے پیٹ وَفَعَلَ فِعْلَ الْمُسْتَعْجِلِينَ۔وَإِدْخَالُه في میں داخل کرنا اس ناراضگی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے تھا