تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 333

۳۳۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء کا کیا حال ہے اس نے کہا کہ انہوں نے یہ کارروائی کی کہ اپنی زمین کے ایک وسیع میدان میں نکل آئے اور ہر یک بچہ کو اس کی ماں سے الگ کر دیا۔پھر اس درد ناک حالت میں ان سب کے نعرے بلند ہوئے اور تضرع کی اور رجوع کیا سو خدا تعالیٰ نے ان کی تضرع کو قبول کر لیا اور عذاب میں تا خیر ڈال دی پس یونس نے ان باتوں کوسن کر کہا کہ جبکہ حال ایسا ہوا یعنی جبکہ ان کی تو بہ منظور ہوگئی اور عذاب ٹل گیا تو میں کذاب کہلا کر ان کی طرف نہیں جاؤں گا۔سو وہ تکذیب سے ڈر کر اس ملک سے نکل گیا۔اب فرمائیے شیخ جی ابھی تسلی ہوئی یا کچھ کسر ہے ظاہر ہے کہ اگر وحی قطعی عذاب کی نہ ہوتی اور کوئی دوسرا پہلو ایمان لانے کا قوم کو جتلایا ہوتا تو وہ میدان میں ایسی درد ناک صورت اپنی نہ بناتے بلکہ شرط کے ایفاء پر عذاب ٹل جانے کے وعدہ پر مطمئن ہوتے ایسا ہی اگر حضرت یونس کو خدا تعالی کی طرف سے علم ہوتا کہ ایمان لانے سے عذاب ٹل جائے گا تو وہ کیوں کہتے کہ اب میں اس قوم کی طرف نہیں جاؤں گا کیونکہ میں ان کی نظر میں کذاب ٹھہر چکا جبکہ وہ سن چکے تھے کہ قوم نے توبہ کی اور ایمان لے آئی پس اگر یہ شرط بھی ان کی وحی میں داخل ہوتی تو ان کو خوش ہونا چاہئے تھا کہ پیشگوئی پوری ہوئی نہ یہ کہ وہ وطن چھوڑ کر ایک بھاری مصیبت میں اپنے تئیں ڈالتے قرآن کا لفظ لفظ اسی پر دلالت کر رہا ہے کہ وہ سخت ابتلا میں پڑے اور حدیث نے کیفیت ابتلا کی یہ بتلائی پس اب بھی اگر کوئی شیخ و شاب منکر ہو تو یہ صریح اس کی گردن کشی ہے۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۱۹ تا ۱۲۴) یونہ یعنی یونس نبی کی کتاب میں جو بائبل میں موجود ہے باب ۳ آیت ۴ میں لکھا ہے اور یونہ شہر میں ( یعنی نینوہ میں ) داخل ہونے لگا۔اور ایک دن کی راہ جا کے منادی کی اور کہا چالیس اور دن ہوں گے تب نینوہ برباد کیا جائے گا۔تب نینوہ کے باشندوں نے خدا پر اعتقاد کیا اور روزہ کی منادی کی اور سب نے چھوٹے بڑے تک ٹاٹ پہنا۔۱۰۔اور خدا نے ان کے کاموں کو دیکھا کہ وہ اپنی بری راہ سے باز آئے تب خدا اس بدی سے کہ اس نے کہی تھی کہ میں ان سے کروں گا پچھتا کے باز آیا اور اس نے ان سے وہ بدی نہ کی۔باب ۴ ۱۳ پر یونہ اس سے ناخوش ہوا اور نپٹ رنجیدہ ہو گیا۔۲ اور اس نے خداوند کے آگے دعا مانگی۔۳ اب اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان کو مجھ سے لے لے کیونکہ میرا مرنا میرے جینے سے بہتر ہے۔تم کلامہ۔اب۔۔۔۔ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ یونس نبی کی کتاب سے بھی قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ موت کا عذاب ٹل گیا اور یہ بھی یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ اس پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی اسی لئے تو یونس نے