تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 329

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۹ سورة الانبياء کر دینا خدا تعالیٰ کے آگے کوئی مشکل امر نہیں اور ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں حضرت ابراہیم کے متعلق ان واقعات کی اب بہت تحقیقات کی ضرورت نہیں کیونکہ ہزاروں سالوں کی بات ہے ہم خود اس زمانہ میں ایسے واقعات دیکھ رہے ہیں اور اپنے او پر تجربہ کر رہے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھا تو ایک دن بارش ہو رہی تھی جس کمرہ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی سارا کمرہ دھوئیں کی طرح بھر گیا اور گندھک کی سی بو آتی تھی لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا۔اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوؤں کی رسم کے مطابق طواف کے واسطه پیچ در پیچ اردگردد یوار بنی ہوئی تھی اور وہ اندر بیٹھا ہوا تھا۔بجلی ان تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جا کر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہو گیا۔دیکھو وہی بجلی کی آگ تھی جس نے اس کو جلا دیا مگر ہم کو کچھ ضرر نہیں دے سکی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی۔ایسا ہی سیالکوٹ کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رات کو میں ایک مکان کی دوسری منزل میں سویا ہوا تھا اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ سولہ اور آدمی بھی تھے۔رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز آئی۔میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا چاہیے انہوں نے کہا کوئی چوہا ہوگا کچھ خوف کی بات نہیں اور یہ کہہ کر پھر سو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی ہی آواز سنی تب میں نے ان کو دوبارہ جگا یا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی۔پھر تیسری بار شہتیر سے آواز آئی تب میں نے ان کو سختی سے اُٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہاں سے نکلا ابھی میں دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اور دوسری چھت کو بھی ساتھ لے کر نیچے جا پڑی اور چار پائیاں ریزہ ریزہ ہو گئیں اور ہم سب بچ گئے۔یہ خدا تعالیٰ کی معجزہ نما حفاظت ہے جب تک کہ ہم وہاں سے نکل نہ آئے شہتیر گرنے سے محفوظ رہا۔ایسا ہی ایک دفعہ ایک بچھو میرے بسترے کے اندر لحاف کے ساتھ مرا ہوا پایا گیا اور دوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتا ہوا پکڑا گیا مگر ہر دو بار خدا تعالیٰ نے مجھے ان کے ضرر سے محفوظ رکھا ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی مجھے خبر بھی نہ ہوئی ایک اور شخص نے دیکھا اور بتلا یا اور اس آگ کو بجھا دیا۔خدا تعالیٰ کے پاس کسی کے بچانے کی ایک راہ نہیں بلکہ بہت راہیں ہیں۔آگ کی گرمی اور سوزش کے واسطے بھی کئی ایک اسباب ہیں اور بعض اسباب مخفی در مخفی ہیں جن کی لوگوں کو خبر نہیں اور خدا تعالیٰ نے وہ اسباب اب تک دنیا پر ظاہر نہیں کئے جن سے اس کی سوزش کی تاثیر جاتی رہے۔پس اس میں کون سے تعجب کی بات ہے کہ