تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 327

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۷ سورة الانبياء اوامر کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک امر شرعی ہوتا ہے جس کے بخلاف انسان کر سکتا ہے دوسرے اوامر کونی ہوتے ہیں جس کا خلاف ہو ہی نہیں سکتا جیسا کہ فرما یا قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ اس میں کوئی خلاف نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آگ اس حکم کے خلاف ہرگز نہ کر سکتی تھی ۔ انسان کو جو حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت کے رنگ میں دیئے ہیں جیسے آقِیمُوا الصَّلوةَ نماز کو قائم رکھو یا فرمایا وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة ان پر جب وہ ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے تو یہ احکام بھی شرعی رنگ سے نکل کر کوئی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر وہ ان الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵) احکام کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتا۔ ( عرض کیا گیا کہ آریہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے پر اعتراض کرتے ہیں تو فرمایا :۔) ان لوگوں کے اعتراض کی اصل جڑ معجزات اور خوارق پر نکتہ چینی کرنا ہے۔ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دعویٰ کرتے ہیں اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں مبعوث کیا ہے کہ قرآن کریم میں جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء کے مذکور ہوئے ہیں ان کو خود دکھا کر قرآن کی حقانیت کا ثبوت دیں۔ ہم دعوی کرتے ہیں کہ اگر دنیا کی کوئی قوم قوم ہمیں آگ میں ڈالے یا کسی اور خطرناک عذاب اور مصیبت میں مبتلا کرنا چاہے تو خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں محفوظ رکھے گا ۔۔۔۔۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے جب میں سیالکوٹ میں تھا ایک مکان میں میں اور چند آدمی بیٹھے ہوئے تھے بجلی پڑی اور ہمارا سارا مکان دھوئیں سے بھر گیا اور اس دروازہ کی چوکھٹ جس کے متصل ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ایسی چیری گئی جیسے آرے سے چیری جاتی ہے مگر اس کی جان کو کچھ بھی صدمہ نہ پہنچا لیکن اسی دن بجلی تیجا سنگھ کے شوالہ پر بھی پڑی اور ایک لمبار استہ اس کے اندر کو چکر کھا کر جاتا تھا جہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا وہ تمام چکر بجلی نے بھی کھائے اور جا کر اس پر پڑی اور ایسا جلایا کہ بالکل ایک کوئلے کی شکل اسے کر دیا پھر یہ خدا کا تصرف نہیں تو کیا ہے کہ ایک شخص کو بچالیا اور ایک کو مار دیا۔ خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعدہ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا ہے ۔ پس اسے کوئی مخالف آزمانے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے آگ ہر گز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے موافق بچالے گا لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں ۔ یہ طریق انبیاء کا نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ( البقرة : ١٩٦ ) پس