تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 317
۳۱۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء علم وسیع ہو جائیں اور علوم وفنون میں تم ترقی کرو اور ہیئت اور طبعی اور طبابت اور جغرافیہ وغیرہ علوم تم میں پیدا ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمتوں کی طرف تم کو متوجہ کریں اور تم سمجھ لو کہ کیسے خدا تعالیٰ کا علم اور اس کی حکمت کا ملہ ہر ایک شے پر محیط ہورہی ہے اور کیسی ترکیب ابلغ اور ترتیب محکم کے ساتھ آسمان اور جو کچھ اس میں ہے اپنا رشتہ زمین سے رکھتا ہے اور کیسے خدا تعالیٰ نے زمین کو قوت قابلہ عطا کر رکھی ہے اور آسمانوں اور ان کے اجرام کو قوت مؤثرہ مرحمت فرمائی ہے اور یادر ہے کہ جس طرح تنزل امر جسمانی اور روحانی دونوں طور پر آسمانوں سے ہوتا ہے اور ملائک کی تو جہات اجرام سماوی کی تاثیرات کے ساتھ مخلوط ہو کر زمین پر گرتی ہیں ایسا ہی زمین اور زمین والوں میں بھی جسمانی اور روحانی دونوں قو تیں قابلیت کی عطا کی گئی ہیں تا قوابل اور مؤثرات میں بکلی مساوات ہو۔اور سات زمینوں سے مراوز مین کی آبادی کے سات طبقے ہیں جو نسبتی طور پر بعض بعض کے تحت واقع ہیں اور کچھ بے جانہ ہوگا اگر ہم دوسرے لفظوں میں ان طبقات سبعہ کو ہفت اقلیم کے نام سے موسوم کر دیں لیکن ناظرین اس دھو کہ میں نہ پڑیں کہ جو کچھ ہفت اقلیم کی تقسیم ان یونانی علوم کی رو سے ہو چکی ہے جس کو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حکماء اسلام نے یونانی کتب سے لیا تھا وہ بکلی صحیح اور کامل ہے کیونکہ اس جگہ تقسیم سے مراد ہماری ایک صحیح تقسیم مراد ہے جس سے کوئی معمورہ باہر نہ رہے اور زمین کی ہر ایک جزوکسی حصہ میں داخل ہو جائے ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ اب تک یہ صحیح اور کامل تقسیم معرض ظہور میں بھی آئی یا نہیں بلکہ صرف یہ غرض ہے کہ جو خیال اکثر انسانوں کا اس طرف رجوع کر گیا ہے کہ زمین کو سات حصہ پر تقسیم کیا جائے۔یہ خیال بھی گویا ایک الہامی تحریک تھی جو الہی تقسیم کے لئے بطور شاہد ہے۔اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں جو خدا تعالیٰ نے کئی بار فرمایا ہے کہ ہم نے چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا تو یہ امر ضعف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ معاً اس کے ارادہ کے ساتھ ہی سب کچھ ہو جانا لازم ہے جیسا کہ وہ آپ ہی فرماتا ہے إِنَّمَا أَمْرَةً إِذا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (يس: ۸۳) یعنی جب خدا تعالیٰ ایک چیز کے ہونے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا امرایسی قوت اور طاقت اور قدرت اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ اس چیز جو اس کے علم میں ایک علمی وجود رکھتا ہے فقط یہ کہتا ہے کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے۔اس وہم کا جواب یہ ہے کہ قدرت اور طاقت کا مفہوم اس بات کو مستلزم نہیں کہ وہ چیز خوانخواہ بلا توقف ہو جائے اور نہ ارادہ کے مفہوم میں ضروری طور پر یہ بات داخل ہے کہ جس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے وہ اسی وقت ہو جائے بلکہ اسی حالت میں ایک قدرت اور ایک ارادہ کو کامل قدرت اور کامل ارادہ کہا جائے گا جب کہ وہ ایک فاعل کے اصل منشاء کے موافق جلد یا