تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 318

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۸ سورة الانبياء دیر کے ساتھ جیسا کہ منشا ہو ظہور میں آوے مثلاً چلنے میں کامل قدرت اس شخص کی نہیں کہہ سکتے کہ جلد جلد وہ چل سکتا ہے اور آہستہ آہستہ چلنے سے وہ عاجز ہے بلکہ اس شخص کو کامل القدرت کہیں گے کہ جو دونوں طور جلد اور دیر میں قدرت رکھتا ہو یا مثلاً ایک شخص ہمیشہ اپنے ہاتھ کو مبارکھتا ہے اور اکٹھا کرنے کی طاقت نہیں یا کھڑا رہتا ہے اور بیٹھنے کی طاقت نہیں تو ان سب صورتوں میں ہم اس کو قوی قرار نہیں دیں گے بلکہ بیمار اور معلول کہیں گے غرض قدرت اسی وقت کامل طور پر متحقق ہوسکتی ہے کہ جب کہ دونوں شق سرعت اور بطو پر قدرت ہو اگر ایک شق پر قدرت ہو تو وہ قدرت نہیں بلکہ عجز اور نا توانائی ہے تعجب کہ ہمارے مخالف خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کو بھی نہیں دیکھتے کہ دنیا میں اپنے قضا و قدر کو جلد بھی نازل کرتا ہے اور دیر سے بھی۔ہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صفات قہر یہ اکثر جلدی کے رنگ میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور صفات لطیفہ دیر اور توقف کے پیرا یہ میں مثلاً انسان نو مہینے پیٹ میں رہ کر اپنے کمال وجود کو پہنچتا ہے اور مرنے کے لئے کچھ بھی دیر کی ضرورت نہیں مثلاً انسان اپنے مرنے کے وقت صرف ایک ہی ہیضہ کا دست یا تھوڑا سا پانی قے کے طور پر نکال کر راہی ملک بقا ہو جاتا ہے اور وہ بدن جس کی سالہائے دراز میں ظاہری اور باطنی تکمیل ہوئی تھی ایک ہی دم میں اس کو چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے اب جس قدر میں نے اس اعتراض کے جواب میں لکھا ہے میری دانست میں کافی ہے اس لئے میں اسی پر بس کرتا ہوں لیکن یہ بات کھول کر یاد دلانا ضروری ہے کہ ارادہ کاملہ بھی قدرت کا ملہ کی طرح دونوں شقوں سرعت اور بطو کو چاہتا ہے مثلاً ہم جیسا یہ ارادہ کر سکتے ہیں کہ ابھی یہ بات ہو جائے ایسا ہی یہ بھی ارادہ کر سکتے ہیں کہ دس برس کے بعد ہو مثلا ریل اور تار اور صد باکلیس جواب نکل رہی ہیں بے شک ابتدا سے خدا تعالیٰ کے ارادہ اور علم میں تھیں لیکن ہزار ہا برس تک ان کا ظہور نہ ہوا اور وہ ارادہ تو ابتدا ہی سے تھا مگر مخفی چلا آیا اور اپنے وقت پر ظاہر ہوا اور جب وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے ایک قوم کو ان فکروں اور سوچوں میں لگا دیا اور ان کی مدد کی یہاں تک کہ وہ اپنی تدبیروں میں کامیاب ہو گئے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۸ تا ۱۷۱ حاشیه در حاشیه ) اور پھر اس جگہ ایک اور نکتہ قابل یادداشت ہے اور وہ یہ کہ تیسری قسم کے لوگ بھی جن کا خدا تعالیٰ سے کامل تعلق ہوتا ہے اور کامل اور مصفا الہام پاتے ہیں قبول فیوض الہیہ میں برابر نہیں ہوتے اور ان سب کا دائرہ استعداد فطرت با ہم برابر نہیں ہوتا بلکہ کسی کا دائرہ استعداد فطرت کم درجہ پر وسعت رکھتا ہے اور کسی کا زیادہ وسیع ہوتا ہے اور کسی کا بہت زیادہ اور کسی کا اس قدر جو خیال و گمان سے برتر ہے اور کسی کا خدا تعالیٰ سے