تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 314

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۴ سورة الانبياء اس نے کسی حصہ فضا کو خالی نہیں پایا پس یہ استقر اہمیں اس بات کے سمجھنے کے لئے بہت مدد دے سکتا ہے کہ اگر چہ یونانیوں کی طرح آسمان کی حد بست نا جائز ہے مگر یہ بھی تو درست نہیں ہے کہ آسمانوں سے مراد صرف ایک خالی فضا اور پول ہے جس میں کوئی مخلوق مادہ نہیں ہم جہاں تک ہمارے تجارب رویت رسائی رکھتے ہیں کوئی مجرد پول مشاہدہ نہیں کرتے پھر کیوں کر خلاف اپنی مستمر استقر ا سکے حکم کر سکتے ہیں کہ ان مملو فضاؤں سے آگے چل کر ایسے فضا بھی ہیں جو بالکل خالی ہیں۔کیا بر خلاف ثابت شدہ استقرا کے اس وہم کا کچھ بھی ثبوت ہے ایک ذرا بھی نہیں۔پھر کیوں کر ایک بے بنیاد و ہم کو قبول کیا جائے اور مان لیا جائے۔ہم کیوں کر ایک قطعی ثبوت کو بغیر کسی مخالفانہ اور غالب ثبوت کے چھوڑ سکتے ہیں اور علاوہ اس کے اللہ جل شانہ کی اس میں کسرشان بھی ہے گویا وہ عام اور کامل خالقیت سے عاجز تھا تبھی تو تھوڑ اسا بنا کر باقی بے انتہا فضا چھوڑ دی اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس استقرائی ثبوت کے انکار میں کہ کوئی فضا کسی جو ہر لطیف سے خالی نہیں کون سی یقینی اور قطعی دلیل ایسے شخصوں کے ہاتھ میں ہے جو مجز دپول کے قائل ہیں یا قائل ہوں۔اگر کوئی شخص ایسا ہی اعتقاد اور رائے رکھتا ہے کہ چند مادی کرتوں کے بعد تمام پول ہی پڑا ہے جو بے انتہا ہے تو وہ ہماری اس حجت استقرائی سے صاف اور صریح طور پر ملزم ٹھہر جاتا ہے ظاہر ہے کہ استقر اوہ استدلال اور حجت کی قسم ہے جو اکثر دنیا کے ثبوتوں کو اسی سے مدد لی ہے مثلاً ہمارا یہ قول کہ انسان کی دو آنکھیں ہوتی ہیں اور ایک زبان اور دوکان اور وہ عورتوں کی پیشاب گاہ کی راہ سے پیدا ہوتا ہے اور پہلے بچہ پھر جوان اور پھر بڑھا ہوتا ہے اور آخر کسی قدر عمر پا کر مر جاتا ہے اور ایسا ہی ہمارا یہ قول کہ انسان سوتا بھی ہے اور کھاتا بھی اور آنکھوں سے دیکھتا اور ناک سے سونگھتا اور کانوں کے ذریعہ سے سنتا اور پیروں سے چلتا اور ہاتھوں سے کام کرتا اور دوکانوں میں اس کا سر ہے ایسا ہی اور صدہا باتیں اور ہر ایک نوع نباتات اور جمادات اور حیوانات کی نسبت جو ہم نے طرح طرح کے خواص دریافت کئے ہیں ان سب کا ذریعہ بجز استقرا کے اور کیا ہے پھر اگر استقرا میں کسی کو کلام ہو تو یہ تمام علوم درہم برہم ہو جائیں گے اور اگر یہ خلجان ان کے دلوں میں پیدا ہو کہ آسمانوں کا اگر کچھ وجود ہے تو کیوں نظر نہیں آتا۔تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہر ایک وجود کا مرئی ہونا شرط نہیں جو وجود نہایت لطافت اور بساطت میں پڑا ہے وہ کیوں کر نظر آ جائے اور کیوں کر کوئی دور بین اس کو دریافت کر سکے۔غرض سماوی وجود کو خدا تعالیٰ نے نہایت لطیف قرار دیا ہے چنانچہ اسی کی تصریح میں یہ آیت اشارہ کر رہی ہے کہ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ یعنی ہر یک ستارہ اپنے اپنے آسمان میں جو اس کا مبلغ دور ہے تیر رہا ہے۔اور درحقیقت خدا تعالیٰ نے