تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 315

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۵ سورة الانبياء یونانیوں کے محمدد کی طرح اپنے عرش کو قرار نہیں دیا اور نہ اس کو محدود قرار دیا۔ہاں اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ ایک طبقہ قرار دیا ہے جس سے باعتبار اس کی کیفیت اور کمیت کے اور کوئی اعلیٰ طبقہ نہیں ہے اور یہ امر ایک مخلوق اور موجود کے لئے ممتنع اور محال نہیں ہو سکتا۔بلکہ نہایت قرین قیاس ہے کہ جو طبقہ عرش اللہ کہلاتا ہے وہ اپنی وسعتوں میں خدائے غیر محدود کے مناسب حال اور غیر محدود ہو۔اور اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت آسمان پھٹ جائیں گے اور ان میں شگاف ہو جائیں گے اگر وہ لطیف مادہ ہے تو اس کے پھٹنے کے کیا معنے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ اکثر قرآن کریم میں سماء سے مراد کل ما فی السماء کو لیا ہے جس میں آفتاب اور ماہتاب اور تمام ستارے داخل ہیں۔ماسوا اس کے ہر یک جرم لطیف ہو یا کثیف قابل خرق ہے بلکہ لطیف تو بہت زیادہ فرق کو قبول کرتا ہے پھر کیا تعجب ہے کہ آسمانوں کے مادہ میں بحکم رب قدیر وحکیم ایک قسم کا فرق پیدا ہو جائے۔وذلك على الله يسير۔بالآخر یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے ہر یک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی غلطی ہے اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔سو ہمیں اس فکر میں پڑنا کہ انشقاق اور انفجار آسمانوں کا کیوں کر ہو گا در حقیقت ان الفاظ کے وسیع مفہوم میں ایک دخل بے جا ہے صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ اور اس قسم کے اور بھی عالم مادی کے فنا کی طرف اشارہ ہے الہی کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس عالم کون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے ہر یک جو بنایا گیا تو ڑا جائے گا اور ہر یک ترکیب پاش پاش ہو جائے گی اور ہر یک جسم متفرق اور ذرہ ذرہ ہو جائے گا اور ہر یک جسم اور جسمانی پر عام فنا طاری ہوگی۔اور قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفجار کے الفاظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں ان سے ایسے معنے مراد نہیں ہیں جو کسی جسم صلب اور کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَ السَّموتُ مَطوِيتُ بِيَمِينِهِ ( الزمر : ۶۸ ) یعنی دنیا کے فتا کرنے کے وقت خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ سے لپیٹ لے گا اب دیکھو کہ اگر شق السماوات سے در حقیقت پھاڑ نا مراد لیا جائے تو مطویات کا لفظ اس سے مغائر اور منافی پڑے گا کیونکہ اس میں پھاڑنے کا کہیں ذکر نہیں۔صرف لیٹے کا ذکر ہے۔پھر ایک دوسری آیت ہے جو سورۃ الانبیاء جزو ے ا میں ہے اور وہ یہ ہے يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَى السّجِلِ لِلمكتتب كَمَا بَدَانَا اَوَلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا ۖ إِنَّا كُنَّا فعلين (الانبیاء : ۱۰۵) یعنی ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے