تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 312

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١٢ سورة الانبياء في الرُّشْدِ وَالْهَوَى وَفُتِحَتْ لِفَرِيقِ أَبْوَابُ ایک گروہ کے لئے دروازے زمین کے کھولے گئے الْأَرْضِ إِلى تَحْتِ الثَّرَى وَلِلقَانِي ابواب اور دوسرے گروہ کے لئے آسمانی دروازے کھولے السَّمَاءِ إِلى سِدرَةِ الْمُنْتَهى أَمَّا الَّذِيْنَ گئے لیکن جس گروہ کے لئے زمینی دروازے کھولے فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ آبْوَابُ الْأَرْضِ فَهُمْ گئے وہ شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ گروہ جس يَتَّبِعُونَ شَيْطَانَهُمُ الَّذِی اغْوَی وَالَّذِيْنَ کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے وہ انبیاء فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَهُمْ وُرَنَاء کے وارث ہیں اور ہر ایک طرح سے پاک وصاف النَّبِيِّينَ وَقَوْمٌ مُطَهَّرُونَ مِن كُلِ شُح وَهَوَى ہیں۔قوم کو پروردگار کی طرف بلاتے ہیں اور ان کو يَدْعُونَ قَوْمَهُمْ إِلى رَبِّهِمْ وَيَمْنَعُونَهُمْ ما برائیوں سے بچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کے ساتھ يُشْرَكُ بِهِ فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتِ الْعُلی کسی چیز کوزمین و آسمان میں شریک نہ کرنا چاہئے۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۱۲۷ تا ۱۲۹) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) زمین اور آسمان دونوں ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے جن کے جو ہر مخفی تھے ہم نے مسیح کے زمانہ میں وہ دونوں گٹھڑیاں کھول دیں اور دونوں کے جو ہر ظاہر کر دیئے۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۷) کیا یہ سچ نہیں کہ اس زمانہ میں زمین کی گٹھڑی ایسی کھلی ہے کہ ہزار ہانئی حقیقتیں اور خواص اور کلیں ظاہر ہوتی جاتی ہیں پھر آسمانی گٹھڑی کیوں بندر ہے۔آسمانی گٹھڑی کی نسبت گذشتہ نبیوں نے بھی پیشگوئی کی تھی کہ بچے اور عورتیں بھی خدا کا الہام پائیں گی اور وہ مسیح موعود کا زمانہ ہوگا۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۷ حاشیہ ) وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْ ءٍ حَى یعنی ہر ایک چیز پانی سے ہی زندہ ہے۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۱۵) وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارِ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ۔(۳۴) آج کل کے علم ہیئت کے محققین جو یورپ کے فلاسفر ہیں جس طرز سے آسمانوں کے وجود کی نسبت خیال رکھتے ہیں در حقیقت وہ خیال قرآن کریم کے مخالف نہیں کیونکہ قرآن کریم نے اگر چہ آسمانوں کو نر ا پول تو نہیں ٹھہرایا لیکن اس سماوی مادہ کو جو پول کے اندر بھرا ہوا ہے صلب اور کثیف اور متعسر الخرق مادہ بھی قرار نہیں دیا