تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 5
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے مخالف متکبر و سرکش آخر نامراد اور نا کام ہو جاتے ہیں ۔ سورة ابراهيم الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ فروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۵) ہر نبی پہلے صبر کی حالت میں ہوتا ہے پھر جب ارادہ الہی کسی قوم کی تباہی سے متعلق ہوتا ہے تو نبی میں درد کی حالت پیدا ہوتی ہے وہ دعا کرتا ہے پھر اس قوم کی تباہی یا خیر خواہی کے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں ۔ دیکھو نوح علیہ السلام پہلے صبر کرتے رہے اور بڑی مدت تک قوم کی ایذائیں سہتے رہے پھر ارادہ الہی جب ان کی تباہی سے متعلق ہوا تو درد کی حالت پیدا ہوئی اور دل سے نکلا لا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا ( نوح : ۲۷) جب تک خدا کا ارادہ نہ ہو وہ حالت پیدا نہیں ہوتی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال پہلے صبر کرتے رہے پھر جب درد کی حالت پیدا ہوئی تو قتال کے ذریعے مخالفین پر عذاب نازل ہوا۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۹ مئی ۱۹۰۷ ء صفحه (۴) جب رسولوں نے دیکھا کہ وعظ اور پند سے کچھ فائدہ نہ ہوا تو انہوں نے ہر ایک بات سے کنارہ کش ہو کر خدا کی طرف توجہ کی اور اس سے فیصلہ چاہا تو پھر فیصلہ ہو گیا۔ البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۶ رفروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۵) اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ) پاک کلمات پاک درختوں سے مشابہت رکھتے ہیں جن کی جڑھ مضبوط ہے اور شاخیں آسمان میں اور سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۵۸) ہمیشہ اور ہر وقت تر و تازہ پھل دیتے ہیں ۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کیوں کر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ وہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑھ ثابت ہو اور جس کی شاخیں آسمان میں ہوں اور وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہے۔ اصلُهَا ثَابِت سے مراد یہ ہے کہ اصول ایمانیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور یقین کامل کے درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں اور وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا رہے کسی وقت خشک درخت کی طرح نہ ہو۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۱۳۰ نومبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۵)