تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 299
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۹ سورة الانبياء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ فلاں شخص جس کی نئی شادی ہوئی تھی اور سانپ کے کاٹنے سے مر گیا تھا اُس کو زندہ کر دو تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے بھائی کو دفن کر و۔غرض قرآن شریف اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ مکہ کے پلید اور حرامکار کا فر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے نشان مانگا کرتے تھے اور ہمیشہ اس سوال کی منظوری سے محروم رہتے اور خدا تعالیٰ سے لعنتیں سنتے تھے ایسا ہی تمام انجیل پڑھ کر دیکھ لو کہ اقتراحی نشان مانگنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے گالیاں سنا کرتے تھے۔سواے عزیز! کچھ خدا کا خوف کرو عمر کا اعتبار نہیں۔خدا تعالیٰ میرے ہاتھ پر نشان ظاہر کرتا ہے مگر اس سنت کے موافق جو قدیم سے اپنے مامورین سے رکھتا ہے۔اور بلاشبہ اس سنت کے التزام سے ایک شخص اگر شیطان بن کر بھی آوے تب بھی اُس کو الہی نشانوں سے قائل کر دیا جائے گا لیکن اگر خدا کی سنت قدیمہ کے مخالف دیکھنا چاہے تو اس کا اُس نعمت سے کچھ حصہ نہیں اور بالیقین وہ ایسا ہی محروم مرے گا جیسا کہ بوجہل وغیر ہ محروم مر گئے۔تحفه نفره نوسیه، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۵۹،۵۵۸) کفار نے یہی سوال کیا تھا فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ یعنی اگر یہ نبی سچا ہے تو موسیٰ وغیرہ انبیاء بنی اسرائیل کے نشانوں کی مانند نشان دکھاوے اور مشرکین نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مردے ہمارے لئے زندہ کر دیوے یا آسمان پر ہمارے رو برو چڑھ جاوے اور کتاب لا وے جس کو ہم ہاتھ میں لے کر دیکھ لیں وغیرہ وغیرہ مگر خدائے تعالیٰ نے محکوموں کی طرح ان کی پیروی نہیں کی اور وہی نشان دکھلائے جو اس کی مرضی تھی یہاں تک کہ بعض دفعہ نشان طلب کرنے والوں کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تمہارے لئے قرآن کا نشان کافی نہیں۔اور یہ جواب نہایت پر حکمت تھا کیونکہ ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ کہ ان میں اور سحر و مکر و دست بازی وغیرہ میں تفرقہ و تمیز کرنا نہایت مشکل بلکہ محال ہوتا ہے اور دوسرے وہ نشان ہیں جو ان مغشوش کاموں سے بلکلی تمیز رکھتے ہیں اور کوئی شائبہ یا شبہ سحر یا مکر یا دست بازی اور حیلہ گری کا ان میں نہیں پایا جاتا۔سو اسی دوسری قسم میں سے قرآن کریم کا معجزہ ہے جو بکلی روشن اور ہر ایک پہلو اور ہر ایک طور سے لعل تاباں کی طرح چمک رہا ہے۔لکڑی کا سانپ بنانا کوئی ممیز نشان نہیں ہے۔حضرت موسیٰ نے بھی سانپ بنایا اور ساحروں نے بھی اور اب بھی بنائے جاتے ہیں مگر اب تک معلوم نہیں ہوا کہ سحر کے سانپ اور معجزہ کے سانپ میں مابہ الامتیاز کیا ہے۔اسی طرح سب امراض میں عمل الترب میں مشق کرنے والے خواہ وہ عیسائی ہیں یا ہندو یا یہودی یا مسلمان یا د ہر یہ اکثر کمال رکھتے ہیں اور البتہ بعض