تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 280

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۸۰ سورة طه فَالْقَهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَى۔سانپ انسان کی نسل کا پہلا اور ابتدائی ابتدائی دشمن ہے اور بزبانِ حال کہتا ہے: حَيَّ عَلَى الْمَوْتِ یعنی موت کی طرف آجا۔اس لئے اس کا نام حبیہ ہوا۔(ضیاء الحق ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۶۳) آنِ اقْذِ فِيهِ في التَّابُوتِ فَاقْذِ فِيهِ فِى الْيَمْ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذُهُ عَدُ b وج لِي وَعَدُو لَهُ وَ الْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةٌ مِنِى وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي۔محبت ایک عربی لفظ ہے اور اصل معنی اس کے پر ہو جانا ہے چنانچہ عرب میں یہ مثل مشہور ہے کہ محبب الحِمارُ یعنی جب عربوں کو یہ کہنا منظور ہو جاتا ہے کہ گدھے کا پیٹ پانی سے بھر گیا تو کہتے ہیں کہ تحبب الحِمارُ اور جب یہ کہنا منظور ہوتا ہے کہ اونٹ نے اتنا پانی پیا کہ وہ پانی سے پر ہو گیا تو کہتے ہیں شیرِبتِ الإِبِلُ حَتَّى تَحَبَّبَتْ اور حَبّ جو دانہ کو کہتے ہیں وہ بھی اسی سے نکلا ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ وہ پہلے دانہ کی تمام کیفیت سے بھر گیا اور اسی بناء پر احباب سونے کو بھی کہتے ہیں کیونکہ جو دوسرے سے بھر جائے گا وہ اپنے وجود کو کھودے گا گویا سو جائے گا اور اپنے وجود کی کچھ جس اس کو باقی نہیں رہے گی۔نور القرآن نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۱، ۴۳۲) اور اپنی طرف سے میں نے تجھ پر محبت ڈال دی یعنی تجھ میں ایک ایسی خاصیت رکھ دی کہ ہر ایک جو سعید ہوگا وہ تجھ سے محبت کرے گا اور تیری طرف کھنچا جائے گا میں نے ایسا کیا تا کہ تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پاوے اور میرے روبرو تیرا نشونما ہو۔برائن احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۸۸) اور اپنی طرف سے تجھ میں محبت ڈال دی ہے تا کہ میرے روبرو تجھ سے نیکی کی جائے۔براتین احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) محبت کا لفظ جہاں کہیں با ہم انسانوں کی نسبت آیا بھی ہو اس سے در حقیقت حقیقی محبت مراد نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے حقیقی محبت صرف خدا سے خاص ہے اور دوسری محبتیں غیر حقیقی اور مجازی طور پر ہیں۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ؟) فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيْنَا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى ۴۵ مومن کو بھی تبلیغ دین میں حفظ مراتب کا خیال رکھنا چاہیے۔جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں سختی اور درشتی نہ