تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 279

۲۷۹ سورة طه تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اس کی کنہ اور کیفیت بیان نہ کر سکیں مگر یہ سچی بات ہے کہ اس کو علو ہی سے تعلق ہے بعض امور آنکھوں سے نظر آتے ہیں اور بعض نہیں ہر صورت میں فلسفہ کام نہیں آتا۔پس اصل بات یہی ہے کہ ایک وقت ایسی حالت انسان پر آتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آسمان سے اس کے دل پر کچھ گرا ہے جو اسے رقیق کر دیتا ہے اس وقت نیکی کا بیج اس میں بویا جاوے گا۔الحکم جلدے نمبر امورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۱) اِنّى أَنَا اللهُ لا إلهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذكرى واقم الصلوة الذكرى۔۔۔۔۔اور میری یاد کے لئے نماز کو قائم کر۔( براہین احمدیہ چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۸ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے، استغفار ہے اور درود شریف۔تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ہمت دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد : ۲۹) اطمینان ، سیکنتِ قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں لوگوں نے قسم قسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مقابلہ میں بنادی ہوئی ہے مجھے پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ان وظائف اور اور اد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اور اد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی سے نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے اس لئے فرمایا ہے آقِمِ الصَّلوةَ لِذِکری۔الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۹)