تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 272

۲۷۲ سورة مريم تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندرونی خوبیاں کھول دے۔غرض اسی طرح یہ لفظ نجات بھی اپنے حقیقی معنوں سے پھیرا گیا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس کی تصریح ثابت ہے اور وہ یہ ہے وَ يَوْمَ الْقِيمَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ وو وُجُوهُهُمْ مُسْوَدَةُ اليْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوَى لِلْمُتَكَبِرِينَ - وَيُنَحَى اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (الزمر : ۶۱ ۶۲ ) الجز و نمبر ۲۴ سورۃ الزمر یعنی قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ جنہوں نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولا ان کے منہ کالے ہیں۔(اور کیوں کالے نہ ہوں ) کیا یہ لائق نہیں کہ متکبر لوگ جہنم میں ہی گرائے جائیں اور اللہ تعالیٰ متقیوں کو نجات دے گا اس طور سے کہ ان کو ان کی مرادات تک پہنچائے گا ان کو برائی نہیں لگے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اب یہ آیت اُس پہلی آیت کی گویا تفسیر کرتی ہے کیونکہ اس میں نجات دینے کی حقیقت یہ کھولی ہے کہ وہ اپنی مرادات کو پہنچ جائیں گے اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ وہ اس دن برائی کی مس سے بالکل محفوظ ہوں گے ایک ذرا تکلیف ان کو چھوئے گی بھی نہیں اور غم ان کے نزدیک نہیں آئے گا۔اور اس آیت وَ إِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُعا کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ در اصل مخاطب وہی لوگ ہوں کہ جو عذاب دوزخ میں گرفتار ہوں۔پھر بعض ان میں سے کچھ حصہ تقویٰ کا رکھتے ہیں اس عذاب سے نجات یادیں اور دوسرے دوزخ میں ہی گرے رہیں اور یہ معنے اس حالت میں ہوں گے کہ جب اس خطاب سے ابرار اور اخیار اور تمام مقدس اور مقرب لوگ باہر رکھے جائیں لیکن حق بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی کلام کا منشاء وہی معنی معلوم ہوتے ہیں جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں واللہ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجَعُ وَالْمَابُ - ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۲ تا ۱۵۷) و إن مِنكُمْ إِلا وَارِدُهَا یعنی تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دوزخ میں وارد نہ ہو۔شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۲) اے بُرو اور اے نیکو تم میں سے کوئی بھی نہیں جو جہنم کی آگ پر گزر نہ کرے مگر وہ جو خدا کے لئے اس آگ میں پڑتے ہیں وہ نجات دیئے جائیں گے لیکن وہ جو اپنے نفس امارہ کے لئے آگ پر چلتا ہے وہ آگ اسے کھا جائے گی پس مبارک وہ جو خدا کے لئے اپنے نفس سے جنگ کرتے ہیں اور بد بخت وہ جو اپنے نفس کے لئے خدا سے جنگ کر رہے ہیں اور اس سے موافقت نہیں کرتے جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگز داخل نہیں ہوگا سو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا ایک شعہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے تا تم اس کے لئے پکڑے نہ جاؤ کیونکہ ایک ذرہ بدی کا بھی قابل پاداش ہے وقت تھوڑا ہے اور