تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 264

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۶۴ سورة مريم مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبُحْنَه إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فيكون خدا اپنی ذات میں کامل ہے اس کو کچھ حاجت نہیں کہ بیٹا بنا دے۔کون سی کسر اس کی ذات میں رہ گئی تھی جو بیٹے کے وجود سے پوری ہو گئی اور اگر کوئی کسر نہیں تھی تو پھر کیا بیٹا بنانے میں خدا ایک فضول حرکت کرتا جس کی اس کو کچھ ضرورت نہ تھی وہ تو ہر ایک عبث کام اور ہر یک حالت نا تمام سے پاک ہے۔جب کسی بات کو کہتا ہے: ہو۔تو ہوجاتی ہے۔(برائین احمد یہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد اصلحه ۵۲۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّان قرآن شریف میں ادریس نبی کے حق میں ہے وَرَفَعْنَهُ مَكَانَ عَلِيًّا اور اس کے ساتھ تو فی کا کہیں لفظ نہیں تا ہم علماء اور یس کی وفات کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس جہان سے ایسا اٹھایا گیا کہ پھر نہیں آئے گا یعنی مرگیا کیونکہ بغیر مرنے کے کوئی اس جہان سے ہمیشہ کے لئے رخصت نہیں ہو سکتا وجہ یہ کہ اس دنیا سے نکلنے اور بہشت میں داخل ہونے کا موت ہی دروازہ ہے گُل نفیس ذائِقَةُ الْمَوْتِ (ال عمران : ۱۸۲)۔اور اگر انہیں کہا جائے کہ کیا اور میں آسمان پر مر گیا یا پھر آ کر مرے گا یا آسمان پر ہی اس کی روح قبض کی جائے گی تو ادریس کے دوبارہ دنیا میں آنے سے صاف انکار کرتے ہیں۔اور چونکہ دخول جنت سے پہلے موت ایک لازمی امر ہے لہذا ادریس کا فوت ہو جانا مان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رفع کے اس جگہ معنے موت ہی ہیں۔پھر جبکہ مسیح کے رفع کے ساتھ تو فی کا لفظ بھی موجود ہے تو کیوں اور کس دلیل سے اس کی حیات کے لئے ایک شور قیامت برپا کر دیا ہے۔ازاله او پام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹۶) یہ آیت حضرت ادریس کے حق میں ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہم نے ادریس کو موت دے کر مکان بلند میں پہنچا دیا کیونکہ اگر وہ بغیر موت کے آسمان پر چڑھ گئے تو پھر بوجہ ضرورت موت جو ایک انسان کے لئے ایک لازمی امر ہے یہ تجویز کرنا پڑے گا کہ یا تو وہ کسی وقت او پر ہی فوت ہو جائیں اور یا زمین پر آکر فوت ہوں مگر یہ دونوں شیق ممتنع ہیں کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جسم خا کی موت کے بعد پھر خاک ہی میں داخل کیا جاتا ہے اور خاک ہی کی طرف عود کرتا ہے اور خاک ہی