تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 259
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۹ سورة مريم تَعَالَى إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِینَ یعنی علامہ زمخشری نے بخاری کی اس حدیث میں طعن کیا ہے اور اس کی صحت میں اس کو شک ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث معارض قرآن ہے اور فقط اس صورت میں صحیح متصور ہوسکتی ہے کہ اس کے یہ معنے کئے جائیں کہ مریم اور ابنِ مریم سے مراد تمام ایسے لوگ ہیں جو ان کی صفت پر ہوں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱۰،۶۰۹) حدیثوں میں آیا ہے کہ عیسی اور اس کی ماں مسن شیطان سے پاک ہیں جاہل مولویوں نے اس کے یہ معنی کر لئے کہ بجو حضرت عیسی اور ان کی ماں کے اور کوئی نبی ہو یا رسول ہو مس شیطان سے پاک نہیں یعنی معصوم نہیں اور آیت اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطنَّ ( الحجر : ۴۳) کو بھول گئے اور نیز آیت : وَسَلَهُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِد کو پس پشت ڈال دیا اور بات صرف اتنی تھی کہ اس حدیث میں بھی یہودیوں کا ذب اور دفع اعتراض منظور تھا چونکہ وہ لوگ طرح طرح کے نا گفتنی بہتان حضرت مریم اور حضرت عیسی پر لگاتے تھے اس لئے خدا کے پاک رسول نے گواہی دی کہ یہودیوں میں سے مس شیطان سے کوئی پاک نہ تھا اگر پاک تھے تو صرف حضرت عیسی اور ان کی والدہ تھی۔نعوذ باللہ اس حدیث کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ایک حضرت عیسی اور ان کی والدہ ہی معصوم ہیں اور ان کے سوا کوئی نبی ہو یا رسول ہو مس شیطان سے معصوم نہیں ہے۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۵۵،۳۵۴) وَاذْكُرُ فِي الْكِتَبِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيَّان مریم کا نام بھی ایک واقعہ پر دلالت کرتا ہے اور وہ یہ کہ جب مریم کا لڑکا عیسی پیدا ہوا تو وہ اپنے اہل و عیال سے دور تھی اور مریم وطن سے دور ہونے کو کہتے ہیں۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرما کر کہتا ہے وَاذْكُرْ فِي الْكِتَب مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرقِيًّا يعنی مریم کو کتاب میں یاد کر جب کہ وہ اپنے اہل سے ایک شرقی مکان میں دور پڑی ہوئی تھی۔سوخدا نے مریم کے لفظ کی وجہ تسمیہ یہ قرار دی کہ مریم حضرت عیسی کے پیدا ہونے کے وقت اپنے لوگوں سے دور و مہجور تھی یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس کا لڑکا عیسی قوم سے قطع کیا جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۷ حاشیه در حاشیه )