تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 250
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۰ سورة الكهف ایسا کلمہ منہ پر لانا میرے نزدیک قریب قریب کفر کے ہے۔اگر عمداً اُس پر اصرار کیا جائے تو اندیشہ کفر ہے۔یہ بیچ ہے کہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے معنے بیان فرمائے ہیں وہی صحیح اور حق ہیں مگر یہ ہرگز سچ نہیں کہ جو کچھ قرآن کریم کے معارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے اُن سے زیادہ قرآن کریم میں کچھ بھی نہیں۔یہ اقوال ہمارے مخالفوں کے صاف دلالت کر رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی غیر محدودہ عظمتوں اور خوبیوں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کا یہ کہنا کہ قرآن کریم ایسوں کے لئے اُترا ہے جو آتی تھے اور بھی اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ قرآن شناسی کی بصیرت سے بکلی بے بہرہ ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض امتیوں کے لئے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر ایک رتبہ اور طبقہ کے انسان اُن کی اُمت میں داخل ہیں۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف : ۱۵۹) پس اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن کریم ہر یک استعداد کی تکمیل کے لئے نازل ہوا ہے اور در حقیقت آیت : وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ اللَّيْنَ (الاحزاب : ۴۱) میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔پس یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے بارہ میں بیان فرمایا اُس سے بڑھ کر ممکن نہیں بدیہی البطلان ہے۔ہم نہایت قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کلام کے لئے ضروری ہے کہ اس کے عجائبات غیر محدود اور نیز بے مثل ہوں۔اور اگر یہ اعتراض ہو کہ اگر قرآن کریم میں ایسے عجائبات اور خواص مخفیہ تھے تو پہلوں کا کیا گناہ تھا کہ اُن کو ان اسرار سے محروم رکھا گیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بکلی اسرار قرآنی سے محروم تو نہیں رہے بلکہ جس قدر معلومات عرفانیہ خدا تعالیٰ کے ارادہ میں ان کے لئے بہتر تھے وہ اُن کو عطا کئے گئے اور جس قدر اس زمانہ کی ضرورتوں کے موافق اس زمانہ میں اسرار ظاہر ہونے ضروری تھے وہ اس زمانہ میں ظاہر کئے گئے۔مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے وہ ہر زمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔میں متعجب ہوں کہ ان ناقص الفہم مولویوں نے کہاں سے اور کس سے من لیا کہ خدا تعالیٰ پر یہ حق واجب ہے کہ جو کچھ آئندہ زمانہ میں بعض آلاء و نعماء حضرت باری عزاسمہ ظاہر ہوں پہلے زمانہ میں بھی ان کا ظہور ثابت ہو بلکہ اس بات کے ماننے کے بغیر کسی صحیح الحواس کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ بعض نعماء الہی پچھلے زمانہ میں ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں ان کا اثر اور وجود پایا نہیں جاتا۔دیکھو جس قدر صد با نباتات جدیدہ کے خواص اب دریافت ہوئے ہیں یا جس قدر انسانوں کے آرام کے لئے طرح طرح کے صناعات اور سواریاں اور سہولت معیشت کی باتیں