تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 251
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة الكهف اب نکلی ہیں پہلے اُن کا کہاں وجود تھا۔اور اگر یہ کہا جائے کہ ایسے حقائق دقائق قرآنی کا نمونہ کہاں ہے جو پہلے دریافت نہیں کئے گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس رسالہ کے آخر میں جو سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے اس کے پڑھنے سے تمہیں معلوم ہوگا کہ اس قسم کے حقائق اور معارف مخفیہ قرآن کریم میں موجود ہیں جو ہر یک زمانہ میں اُس زمانہ کی ضرورتوں کے موافق ہیں۔(کرامات الصادقين ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۶۰ تا ۶۲) قُلْ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى اَنَّمَا الهُكُمْ اللَّهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ کہہ میں ایک آدمی ہوں تم جیسا مجھے خدا سے الہام ہوتا ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۷) ان کو کہہ دے کہ میں تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں مجھ پر یہ وحی ہوتی ہے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی ثانی دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۹) نہیں۔فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاء رتبه الخ جو شخص خدا کی ملاقات کا طالب ہے اسے لازم ہے کہ ایسا عمل اختیار کرے جس میں کسی نوع کا فسادنہ ہو اور کسی چیز کو خدا کی بندگی میں شریک نہ کرے۔برائن احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۳۹ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) جو شخص خدا تعالیٰ کا دیدار چاہتا ہے چاہیے کہ وہ ایسے کام کرے جن میں فساد نہ ہو یعنی ایک ذرہ متابعت نفس اور ہوا کی نہ ہو اور چاہیے کہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ کرے نہ نفس کو نہ ہوا کو اور نہ دوسرے باطل معبودوں کو۔ست بیکن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۰) وہ قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اسی دنیا میں تعہ دیدار الہی میسر آ سکتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا۔یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے پس چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ اُن کی وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ میں ایسا ہوں اور ایسا ہوں اور نہ وہ عمل ناقص اور نا تمام ہوں اور نہ اُن میں کوئی ایسی بد بو ہو جو محبت ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہئے کہ صدق اور وفاداری