تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 245
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۵ سورةالكهف دوسرے مذہب پر ایسا پڑے گا جیسا کہ ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے اور ایک دوسرے کو ہلاک کرنا چاہیں گے تب آسمان و زمین کا خدا اس تلاطم امواج کے زمانہ میں اپنے ہاتھوں سے بغیر دنیوی اسباب کے ایک نیا سلسلہ پیدا کرے گا اور اس میں ان سب کو جمع کرے گا جو استعداد اور مناسبت رکھتے ہیں۔تب وہ سمجھیں گے کہ مذہب کیا چیز ہے اور ان میں زندگی اور حقیقی راستبازی کی رُوح پھونکی جائے گی اور خدا کی معرفت کا ان کو جام پلایا جائے گا اور ضرور ہے کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ یہ پیشگوئی کہ آج سے تیرہ سو برس پہلے قرآن شریف نے دنیا میں شائع کی ہے پوری نہ ہو جائے۔اور خدا نے اس آخری زمانہ کے بارہ میں جس میں تمام قو میں ایک ہی مذہب پر جمع کی جائیں گی صرف ایک ہی نشان بیان نہیں فرمایا بلکہ قرآن شریف میں اور بھی کئی نشان لکھے ہیں۔منجملہ ان کے ایک یہ کہ اُس زمانہ میں دریاؤں میں سے بہت سی نہریں نکلیں گی اور ایک یہ کہ زمین کی پوشیدہ کا نیں یعنی معد نیں بہت سی نکل آویں گی۔اور زمینی علوم بہت سے ظاہر ہو جائیں گے۔اور ایک یہ کہ ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعہ سے کتابیں بکثرت ہو جائیں گی یہ چھاپنے کے آلات کی طرف اشارہ ہے ) اور ایک یہ کہ اُن دنوں میں ایک ایسی سواری پیدا ہو جائے گی کہ اونٹوں کو بیکار کر دے گی اور اس کے ذریعہ سے ملاقاتوں کے طریق سہل ہو جائیں گے۔اور ایک یہ کہ دنیا کے باہمی تعلقات آسان ہو جائیں گے اور ایک دوسرے کو بآسانی خبریں پہنچا سکیں گے۔۔لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۸۲، ۱۸۳) اسی زمانہ کے بارہ میں جو میرا زمانہ ہے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں خبر دیتا ہے جس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ آخری دنوں میں طرح طرح کے مذاہب پیدا ہو جائیں گے اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر حملہ کرے گا جیسا کہ ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے یعنی تعصب بہت بڑھ جائے گا اور لوگ طلب حق کو چھوڑ کر خواہ نخواہ اپنے مذاہب کی حمایت کریں گے۔اور کینے اور تعصب ایسے حد اعتدال سے گزرجائیں گے کہ ایک قوم دوسری قوم کو نگل لینا چاہے گی تب انہیں دنوں میں آسمان سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جائے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک کرنا، بجائے گا اور اس کرنا ء کی آواز سے ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھیا آئے گا بجز اُن لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔قرآن شریف کے اس میں الفاظ یہ ہیں وَ نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا۔اور یہ بات کہ وہ نفخ کیا ہوگا۔اور اس کی کیفیت کیا ہوگی اس کی تفصیل وقتا فوقتا خود ظاہر ہوتی جائے گی۔مجملا صرف اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ