تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 244

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۴ سورة الكهف سے اس صور کا ایک وجود جسمانی بھی محسوس ہوتا ہے اور یہ عجائبات اس عالم میں سے ہیں جن کے سر اس دنیا میں بجر منقطعین کے اور کسی پر کھل نہیں سکتے۔بہر حال آیات موصوفہ بالا سے ثابت ہے کہ آخری زمانہ میں عیسائی مذہب اور حکومت کا زمین پر غلبہ ہوگا اور مختلف قوموں میں بہت سے تنازعات مذہبی پیدا ہوں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو دبانا چاہے گی اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جاوے گا یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی نظام قائم ہو گا ور ایک آسمانی مصلح آئے گا در حقیقت اس مصلح کا نام سیح موعود ہے۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۱، ۳۱۲) قرآن میں اسلامی طاقت کے کم ہونے اور امواج فتن کے اٹھنے کے وقت جو عیسائی واعظوں کی دجالیت سے مراد ہے نفخ صور کی خوشخبری دی گئی ہے اور نفخ صور سے مراد قیامت نہیں ہے کیونکہ عیسائیوں کے امواج فتن کے پیدا ہونے پر تو سو برس سے زیادہ گزر گیا ہے مگر کوئی قیامت برپا نہیں ہوئی بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ کسی مہدی اور مجدد کو بھیج کر ہدایت کی صور پھونکی جائے اور ضلالت کے مردوں میں پھر زندگی کی روح پھونک دی جاوے کیونکہ نفخ صور صرف جسمانی احیاء اور اماتت تک محدود نہیں ہے بلکہ روحانی احیاء اور امانت بھی ہمیشہ نفخ صور کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۰) ان آیات میں کسی کم تجربہ آدمی کو یہ خیال نہ گزرے کہ ان دونوں مقامات کے بعد میں جہنم کا ذکر ہے اور بظاہر سیاق کلام چاہتا ہے کہ یہ قصہ آخرت سے متعلق ہو مگر یادر ہے کہ یہ عام محاورہ قرآن کریم کا ہے اور صد ہا نظیریں اس کی اس پاک کلام میں موجود ہیں کہ ایک دنیا کے قصہ کے ساتھ آخرت کا قصہ پیوند کیا جاتا ہے۔اور ہر یک حصہ کلام کا اپنے قرائن سے دوسرے حصہ سے تمیز رکھتا ہے۔اس طرز سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے۔مثلاً قرآن کریم میں شق القمر کے معجزہ کو ہی دیکھو کہ وہ ایک نشان تھا لیکن ساتھ اس کے قیامت کا قصہ چھیڑ دیا گیا۔جس کی وجہ سے بعض نادان قرینوں کو نظر انداز کر کے کہتے ہیں کہ شق القمر وقوع میں نہیں آیا بلکہ قیامت کو ہو گا۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۱ حاشیه ) یہ زمانہ وہی زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ مختلف فرقوں کو ایک قوم بناوے اور ان مذہبی جھگڑوں کو ختم کر کے آخر ایک ہی مذہب میں سب کو جمع کر دے۔اور اسی زمانہ کی نسبت جو تلاطم امواج کا زمانہ ہے خدا تعالی نے قرآن شریف میں فرمایا ہے وَ نُفِخَ في الصُّورِ فَجَمَعَنَهُمْ جَمْعًا۔اس آیت کو پہلی آیتوں کے ساتھ ملا کر یہ معنے ہیں کہ جس زمانہ میں دنیا کے مذاہب کا بہت شور اُٹھے گا اور ایک مذہب