تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 238
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۸ سورةالكهف اس تدریجی وحدت کی مثال ایسی ہے جیسے خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہر ایک محلہ کے لوگ اپنی اپنی محلہ کی مسجدوں میں پانچ وقت جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ تمام شہر کے لوگ ساتویں دن شہر کی جامع مسجد میں جمع ہوں یعنی ایسی وسیع مسجد میں جس میں سب کی گنجائش ہو سکے اور پھر حکم دیا کہ سال کے بعد عید گاہ میں تمام شہر کے لوگ اور نیز گردو نواح دیہات کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ عمر بھر میں ایک دفعہ تمام دنیا ایک جگہ جمع ہو یعنی مکہ معظمہ میں۔سو جیسے خدا نے آہستہ آہستہ امت کے اجتماع کو حج کے موقع پر کمال تک پہنچایا۔اوّل چھوٹے چھوٹے موقع اجتماع کے مقرر کئے اور بعد میں تمام دنیا کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع دیا سو یہی سنت اللہ الہامی کتابوں میں ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ نوع انسان کی وحدت کا دائرہ کمال تک پہنچا دے۔اوّل تھوڑے تھوڑے ملکوں کے حصوں میں وحدت پیدا کرے اور پھر آخر میں حج کے اجتماع کی طرح سب کو ایک جگہ جمع کر دیوے جیسا کہ اس کا وعدہ قرآن شریف میں ہے کہ و نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعَنَهُمْ جَمْعًا یعنی آخری زمانہ میں خدا اپنی آواز سے تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا جیسا کہ وہ ابتداء میں ایک مذہب پر جمع تھے تا کہ اول اور آخر میں مناسبت پیدا ہو جائے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۴۴ تا ۱۴۶) یہ آیت سورۃ کہف میں یا جوج ماجوج کے ذکر میں ہے۔کتب سابقہ میں جو بنی اسرائیلی نبیوں پر نازل ہوئی تھیں صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے بلکہ نام لے کر بیان کیا ہے کہ یا جوج ماجوج سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں اور یہ بیان ایسی صراحت سے ان کتابوں میں موجود ہے کہ کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا۔اور یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں۔ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے۔کیونکہ اللہ جل شانہ مومنوں کو قرآن شریف میں فرماتا ہے فَسُتَلُوا أَهْلَ الذِكرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (الانبیاء : ۸) یعنی فلاں فلاں باتیں اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم بے خبر ہو۔پس ظاہر ہے کہ اگر ہر ایک بات میں پہلی کتابوں کی گواہی نا جائز ہوتی تو خدا تعالیٰ کیوں مومنوں کو فرماتا کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہل کتاب سے پوچھ لو بلکہ اگر نبیوں کی کتابوں سے کچھ فائدہ اٹھانا حرام ہے تو اس صورت میں یہ بھی ناجائز ہوگا کہ ان کتابوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بطور استدلال پیشگوئیاں پیش کریں۔حالانکہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد ان کے تابعین بھی ان پیشگوئیوں کو بطور حجت پیش کرتے رہے ہیں۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کتب سابقہ کے بیان تین قسم کے ہیں۔