تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 239
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۹ سورةالكهف (۱) ایک تو وہ باتیں ہیں جو واجب التصدیق ہیں۔جیسا کہ خدا کی توحید اور ملائک کا ذکر اور بہشت و دوزخ کے وجود کی نسبت بیان۔اگر ان کا انکار کریں تو ایمان جائے۔(۲) دوسری وہ باتیں ہیں جو رد کرنے کے لائق ہیں جیسا کہ وہ تمام امور جو قرآن شریف کے مخالف ہیں۔(۳) تیسری قسم کی وہ باتیں ہیں جو قرآن شریف میں اگر چہ ان کا ذکر مفصل نہیں مگر وہ باتیں قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو بالکل مطابق ہیں جیسے مثلاً یا جوج ماجوج کی قوم کہ اجمالی طور پر ان کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے بلکہ یہ ذکر بھی موجود ہے کہ آخری زمانہ میں تمام زمین پر ان کا غلبہ ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبیاء : ۹۷) اور یہ خیال کہ یا جوج ماجوج بنی آدم نہیں بلکہ اور قسم کی مخلوق ہے یہ صرف جہالت کا خیال ہے کیونکہ قرآن میں ذوالعقول حیوان جو عقل اور فہم سے کام لیتے ہیں اور مور د ثواب یا عذاب ہو سکتے ہیں وہ دو ہی قسم کے بیان فرمائے ہیں (۱) ایک نوع انسان جو حضرت آدم کی اولاد ہیں (۲) دوسرے وہ جو جنات ہیں۔انسانوں کے گروہ کا نام مَعْشَرَ الْإِنْسِ رکھا ہے اور جنات کے گروہ کا نام مَعْشَرَ الْجِن رکھا ہے۔پس اگر یا جوج ماجوج جس کے لئے مسیح موعود کے زمانہ میں عذاب کا وعدہ ہے مَعْشَرَ الْإِنْسِ میں داخل ہیں یعنی انسان ہیں تو خواہ نخواہ ایک عجیب پیدائش ان کی طرف منسوب کرنا کہ ان کے کان اس قدر لمبے ہوں گے اور ہاتھ اس قدر لمبے ہوں گے اور اس کثرت سے وہ بچے دیں گے ان لوگوں کا کام ہے جن کی عقل محض سطحی اور بچوں کی مانند ہے اگر اس بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت ہو تو وہ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگی جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ کی قومیں ان معنوں میں ضرور لمبے کان رکھتی ہیں کہ بذریعہ تار کے دور دور کی خبریں ان کے کانوں تک پہنچ جاتی ہیں اور خدا نے بڑی اور بحری لڑائیوں میں اُن کے ہاتھ بھی نبرد آزمائی کی وجہ سے اس قدر لمبے بنائے ہیں کہ کسی کو ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں اور توالد تناسل بھی ان کا ایشیائی قوموں کی نسبت بہت ہی زیادہ ہے۔پس جبکہ موجودہ واقعات نے دکھلا دیا ہے کہ ان احادیث کے یہ معنے ہیں اور عقل ان معنوں کو نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ ان سے لذت اٹھاتی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ خواہ نخواہ انسانی خلقت سے بڑھ کر ان میں وہ عجیب خلقت فرض کی جائے جو سراسر غیر معقول اور اس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو قدیم سے انسانوں کے لئے چلا آتا ہے اور اگر کہو کہ یا جوج ماجوج جنات میں سے ہیں انسان نہیں ہیں تو یہ اور حماقت ہے کیونکہ اگر وہ جنات میں سے ہیں تو سد سکندری اُن کو کیوں کر روک سکتی تھی جس حالت میں جنات آسمان تک پہنچ