تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 236
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۶ سورةالكهف طاقتوں کا ہے۔سوجس طور سے خدا نے یا جوج ماجوج کے معنی ظاہر کر دیئے اور جس قوم کو موجودہ واقعہ نے اُن علامات کا مصداق ٹھہرادیا اُس کو قبول نہ کرنا ایک کھلے کھلے حق سے انکار کرنا ہے۔یوں تو انسان جب انکار پر اصرار کرے تو اُس کا منہ کون بند کر سکتا ہے لیکن ایک منصف مزاج آدمی جو طالب حق ہے وہ ان تمام امور پر اطلاع پا کر پورے اطمینان اور شلج صدر سے گواہی دے گا کہ بلاشبہ یہی قو میں یا جوج ماجوج ہیں۔اور جب یہ ثابت ہوا کہ یہی تو میں یا جوج ماجوج ہیں تو خود یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود یا جوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہو گا جیسا کہ قرآن شریف نے بھی یا جوج ماجوج کے غلبہ اور طاقت کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنَهُم جمعا یعنی یا جوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔تب اُن دنوں میں خدا تعالیٰ اس پھوٹ کے دُور کرنے کے لئے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اور محض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صور یعنی قرنا کا حکم رکھتا ہوگا اپنی پر ہیبت آواز لوگوں تک پہنچائے گا جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خدا تعالی تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا۔اور احادیث صحیحہ صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہیں کہ یا جوج ماجوج کا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب قوم یا جوج ماجوج اپنی قوت اور طاقت کے ساتھ تمام قوموں پر غالب آجائے گی اور ان کے ساتھ کسی کو تاب مقابلہ نہیں رہے گی۔تب مسیح موعود کو حکم ہو گا کہ اپنی جماعت کو کوہ طور کی پناہ میں لے آوے یعنی آسمانی نشانوں کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرے اور خدا کی زبردست اور ہیبت ناک عجائبات سے مدد لے اُن نشانوں کی مانند جو بنی اسرائیل کی سرکش قوم کے ڈرانے کے لئے کوہ طور میں دکھلائے گئے تھے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وَ رَفَعْنَا فَوقَكُمُ الطُّور (البقرة : ۶۴ ) یعنی کوہ طور میں نشان کے طریق پر بڑے بڑے زلزلے آئے اور خدا نے طور کے پہاڑ کو یہود کے سروں پر اس طرح پر لرزاں کر کے دکھلایا کہ گویا اب وہ ان کے سروں پر پڑتا ہے تب وہ اس ہیبت ناک نشان کو دیکھ کر بہت ڈر گئے۔اسی طرح مسیح موعود کے زمانہ میں بھی ہوگا۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۳ تا ۸۹) کون شخص اس سے انکار کر سکتا ہے کہ ابتدائے زمانہ کے بعد دنیا پر بڑے بڑے انقلاب آئے۔پہلے زمانہ کے لوگ تھوڑے تھے اور زمین کے چھوٹے سے قطعہ پر آباد تھے اور پھر وہ زمین کے دُور دُور کناروں تک پھیل گئے اور زبانیں بھی مختلف ہوگئیں اور اس قدر آبادی بڑھی کہ ایک ملک دوسرے ملک سے ایک