تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 223

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۳ آیت ہے ساری زمین آرام سے اور ساکن ہے مگر زمین کی تو جنبش ثابت ہو چکی۔سورةالكهف (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۷،۲۷۶) (پادری عبد اللہ آتھم کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:) آپ لکھتے ہیں کہ دلدل میں آفتاب کا غروب ہونا سلسلہ مجازات میں داخل نہیں مگر عَيْنٍ حَمِئَةٍ سے تو کالا پانی مراد ہے اور اس میں اب بھی لوگ یہی نظارہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں اور مجازات کی بنا مشاہدات عینیہ پر ہے جیسے ہم ستاروں کو کبھی نقطہ کے موافق کہہ دیتے ہیں اور آسمان کو کبو در رنگ کہہ دیتے ہیں اور زمین کو ساکن کہہ دیتے ہیں پس جب کہ انہیں اقسام میں سے یہ بھی ہے تو اس سے کیوں انکار کیا جائے۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۸،۲۸۷) غلط نہی معترض کے دل میں یہ پیدا ہوئی ہے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ (جس کی سیرو سیاحت کا ذکر قرآن شریف میں ہے ) سیر کرتا کرتا کسی ایسے مقام تک پہنچا جہاں اُسے سورج دلدل میں چھپتا نظر آیا۔اب عیسائی صاحب مجاز سے حقیقت کی طرف رُخ کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سورج اتنا بڑا ہو کر ایک چھوٹے سے دلدل میں کیوں کر چھپ گیا۔یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ انجیل میں مسیح کو خدا کا بڑہ لکھا ہے یہ کیوں کر ہو سکتا ہے۔بڑہ تو وہ ہوتا ہے جس کے سر پر سینگ اور بدن پر پشم وغیرہ بھی ہو اور چار پاؤں کی طرح سرنگوں چلتا اور وہ چیزیں کھاتا ہو جو بڑے کھایا کرتے ہیں؟ اے صاحب! آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ قرآن شریف نے واقعی طور پر سورج کے دلدل میں چھپنے کا دعوی کیا ہے۔قرآن شریف تو فقط بمنصب نقل خیال اس قدر فرماتا ہے کہ اس شخص کو اس کی نگاہ میں سورج دلدل میں چھپتا ہوا معلوم ہوا۔سو یہ تو ایک شخص کی رویت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسی جگہ پہنچا جس جگہ سورج کسی پہاڑیا آبادی یا درختوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا نظر نہیں آتا تھا جیسا کہ عام دستور ہے بلکہ دلدل میں چھپتا ہوا معلوم دیتا تھا۔مطلب یہ کہ اُس جگہ کوئی آبادی یا درخت یا پہاڑ نزدیک نہ تھے بلکہ جہاں تک نظر وفا کرے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا نشان نظر نہیں آتا تھا فقط ایک دلدل تھا جس میں سورج چھپتا دکھائی دیتا تھا۔ان آیات کا سیاق سباق دیکھو کہ اس جگہ حکیمانہ تحقیق کا کچھ ذکر بھی ہے فقط ایک شخص کی دُور دراز سیاحت کا ذکر ہے اور ان باتوں کے بیان کرنے سے اسی مطلب کا اثبات منظور ہے کہ وہ ایسے غیر آباد مقام پر پہنچا۔سو اس جگہ ہیئت کے مسائل لے بیٹھنا بالکل بے محل نہیں تو اور کیا ہے؟ مثلاً اگر کوئی کہے کہ آج رات بادل