تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 217

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۷ سورة الكهف میں ان حملوں سے اپنی قوم کو محفوظ کر رہا ہوں جو یا جوج ماجوج کر رہے ہیں۔پس اس وقت خدا تعالیٰ تم کو تیار کر رہا ہے تمہارا فرض ہے کہ سچی توبہ کرو اور اپنی سچائی اور وفاداری سے خدا کو راضی کرو تا کہ تمہارا آفتاب غروب نہ ہو اور تاریکی کے چشمہ کے پاس جانے والے نہ ٹھہرو اور نہ تم ان لوگوں سے بنو جنہوں نے آفتاب سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا۔پس تم پورا فائدہ حاصل کرو اور پاک چشمہ سے پانی پیوتا خدا تم پر رحم کرے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۲ صفحه ۷،۶) یہ زمانہ چونکہ کشف حقائق کا زمانہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف کے حقائق اور معارف مجھے پر کھول رہا ہے ذوالقرنین کے قصے کی طرف جو میری توجہ ہوئی تو مجھے یہ سمجھایا گیا ہے کہ ذوالقرنین کے پیرا یہ میں مسیح موعود ہی کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا نام ذوالقرنین اس لئے رکھا ہے کہ قرن چونکہ صدی کو کہتے ہیں اور مسیح موعود دو قرنوں کو پائے گا اس لئے ذوالقرنین کہلائے گا۔چونکہ میں نے تیرھویں اور چودھویں صدی دونوں پائیں ہیں اس طرح پر دوسری صدیاں ہندوؤں اور عیسائیوں کی بھی پائی ہیں اس لحاظ سے تو ذوالقرنین ہے اور پھر اسی قصہ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ذوالقرنین نے تین قومیں پائیں۔اوّل وہ جو غروب آفتاب کے پاس ہے اور کیچڑ میں ہے اس سے مراد عیسائی قوم ہے جس کا آفتاب ڈوب گیا ہے یعنی شریعتِ حقہ ان کے پاس نہیں رہی۔روحانیت مرگئی اور ایمان کی گرمی جاتی رہی یہ ایک کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہیں۔دوسری قوم وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے اور جھلنے والی دھوپ ہے۔یہ مسلمانوں کی موجودہ حالت ہے۔آفتاب یعنی شریعت حقہ ان کے پاس موجود ہے مگر یہ لوگ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے کیونکہ فائدہ تو حکمت عملی سے اُٹھایا جاتا ہے جیسے مثلا روٹی پکانا وہ گو آگ سے پکائی جاتی ہے لیکن جب تک اس کے مناسب حال انتظام اور تدبیر نہ کی جاوے وہ روٹی تیار نہیں ہو سکتی اسی طرح پر شریعت حقہ سے کام لینا بھی ایک حکمت عملی کو چاہتا ہے۔پس مسلمانوں نے اس وقت باوجود یکہ ان کے پاس آفتاب اور اس کی روشنی موجود تھی اور ہے لیکن کام نہیں لیا اور مفید صورت میں اس کو استعمال نہیں کیا اور خدا کے جلال اور عظمت سے حصہ نہیں لیا۔اور تیسری وہ قوم ہے جس نے اس سے فریاد کی کہ ہم کو یا جوج ماجوج سے بچا یہ ہماری قوم ہے جو مسیح موعود کے پاس آئی اور اس نے اس سے استفادہ کرنا چاہا ہے۔غرض آج ان قصوں کا علمی رنگ ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ یہ قصہ پہلے بھی کسی رنگ میں گزرا ہے لیکن یہ بچی بات ہے کہ اس قصہ میں واقعہ آئندہ کا بیان بھی بطور