تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 218
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۸ سورة الكهف الحکم جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ ۱۷ پریل ۱۹۰۲ صفحه ۶) پیشگوئی تھا جو آج اس زمانہ میں پورا ہو گیا۔ایک دفعہ سورہ کہف جس کو ذوالقرنین بھی کہتے ہیں میں دیکھ رہا تھا تو جب میں نے اس قصہ کو غور سے پڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس میں بعینہ اس زمانہ کا حال درج ہے جیسے لکھا ہے کہ جب اس نے سفر کیا تو ایسی جگہ پہنچا جہاں کہ اسے معلوم ہوا کہ سورج کیچڑ میں ڈوب گیا ہے اور یہ اس کا مغربی سفر تھا اور اس کے بعد پھر وہ ایسے لوگوں کے پاس پہنچتا ہے جو دھوپ میں ہیں اور جن پر کوئی سایہ نہیں۔پھر ایک تیسری قوم اسے ملتی ہے جو یا جوج ماجوج کے حالات بیان کر کے اس سے حمایت طلب کرتی ہے۔اب مثالی طور پر تو خدا نے یہ بیان کیا ہے لیکن ذوالقرنین تو اس کو کہتے ہیں جس نے دو صدیاں پائی ہوں اور ہم نے دوصدیوں کو اس قدر لیا ہے کہ اعتراض کا موقع ہی نہیں رہتا۔میں نے ہر صدی پر دوصدیوں سے حصہ لیا ہے تم حساب کر کے دیکھ لو اور یہ جو قرآن میں قصص پائے جاتے ہیں تو یہ صرف قصہ کہانیاں نہیں بلکہ یہ عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں جو شخص ان کو صرف قصے کہانیاں سمجھتا ہے وہ مسلمان نہیں۔غرض اس حساب سے تو مجھے بھی ذوالقرنین ماننا پڑے گا اور آئمہ دین میں سے بھی ایک نے ذوالقرنین سے صحیح مراد لیا ہے اب خدا تعالیٰ نے اس قصہ میں مغربی اور مشرقی دوقوموں کا ذکر کیا ہے۔مغربی قوم سے مراد تو وہ لوگ ہیں جن کو انجیل اور دیگر صحیفہ جات کا صاف شفاف پانی دیا گیا تھا مگر وہ روشن تعلیم انہوں نے ضائع کر دی اور اپنے پاس کیچڑ اور گند باقی رہنے دیا اور مشرقی قوم سے وہ مسلمان لوگ مراد ہیں جو امام کے سایہ کے نیچے نہیں آتے اور دھوپ کی شعاعوں سے جھلسے جا رہے ہیں لیکن ہماری جماعت بہت خوش نصیب ہے اس کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے فضل سے ہدایت عطا فرمائی لیکن یہ ابھی ابتدائی حالت ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۵) وہ ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اور ہے اور سکندر رومی اور شخص ہے بعض لوگ ہر دوکو ایک سمجھتے ہیں۔دوصدیوں میں سے حصہ لینے والا ہے۔( بدر جلد ۸ نمبر ۷ ۸ ۹ مورخه ۲۴ تا ۳۱ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحه ۳) مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ قَعَدَ فِي ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایک تاریک مَقْنُوْنَةٍ فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ حَتَّى جَاءَتْ کمرے میں ہے۔پھر اس پر سورج نے بھی طلوع کیا یہاں عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ مِنَ الَّذِينَ يَخْتَهِبُونَ وَ تک کہ اس کے عین سر پر آ گیا مگر وہ تاریکیوں میں ہی پڑا قَوْمُ أَخَرُوْنَ رَضُوا بِالْحُمَاذِي وَقَعَ رہا۔اور ایک اور قوم ہے جو شدت گرمی پر راضی ہو گئے ہیں