تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 201
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۱ سورةالكهف تقویٰ اور طہارت اطاعت و وفا میں ترقی کرنی چاہیے اور یہ سب باتیں تب ممکن ہیں جب انسان کامل ایمان اور یقین سے ثابت قدم رہے اور صدق و اخلاص اپنے مولیٰ کریم سے دکھلائے اور وہ باتیں جو علم الہی میں مخفی ہیں اس کے کنہ معلوم کرنے میں بے سود کوشش نہ کرے۔۔۔۔۔جو شخص ہر ایک چیز کی خواص و ماهیت دریافت کرنے کے پیچھے لگ جاتا ہے وہ نادانی سے کارخانہ ء ربی اور اس کی منشاء سے بالکل ناواقف و نابلد ہے اگر کوئی کہے کہ شیطان وملائکہ دکھلاؤ تو کہنا چاہیے کہ تمہارے اندر یہ خواص کہ بیٹھے بٹھائے آنا فانا بدی کی طرف متوجہ ہو جانا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی ذات سے بھی منکر ہو جانا اور کبھی نیکی میں ترقی کرنا اور انتہا درجہ کی انکسار و فروتنی و عجز و نیاز میں گر جانا یہ اندرونی کششیں جو تمہارے اندر موجود ہیں ان سب کے محرک جو قومی ہیں وہ ان دو الفاظ ملک و شیطان کے وجود میں مجسم ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۳) وَ إِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتْهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّى ابْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت موسیٰ وعظ فرمارہے تھے کسی نے پوچھا کہ آپ سے کوئی اور بھی علم میں زیادہ ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔اللہ تعالیٰ کو یہ بات ان کی پسند نہ آئی (یعنی یوں کہتے کہ خدا کے بندے بہت سے ہیں جو ایک سے ایک علم میں زیادہ ہیں) اور حکم ہوا کہ تم فلاں طرف چلے جاؤ جہاں تمہاری مچھلی زندہ ہو جاوے گی وہاں تم کو ایک علم والا شخص ملے گا۔پس جب وہ ادھر گئے تو ایک جگہ مچھلی بھول گئے جب دوبارہ تلاش کرنے آئے تو معلوم ہوا کہ مچھلی وہاں نہیں ہے وہاں ٹھیر گئے تو ایک ہمارے بندہ سے ملاقات ہوئی اس کو موسیٰ نے کہا کہ کیا مجھے اجازت ہے کہ آپ کے ساتھ رہ کر علم اور معرفت سیکھوں اس بزرگ نے کہا کہ اجازت دیتا ہوں مگر آپ بد گمانی سے بچ نہیں سکیں گے کیونکہ جس بات کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی اور سمجھ نہیں دی جاتی تو اس پر صبر کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ جب دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک موقعہ پر بے محل کام کرتا ہے تو اکثر بدظنی ہو جاتی ہے۔پس موسیٰ نے کہا کہ میں کوئی بدظنی نہ کروں گا اور آپ کا ساتھ دوں گا۔اس نے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ چلے گا تو مجھ سے کسی بات کا سوال نہ کرنا پس جب چلے تو ایک کشتی پر جا کر سوار ہوئے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخه ۷ /اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۲۵)