تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 197
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۷ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا سورة الكهف مجھے ان لوگوں کی حالتوں پر رحم آتا ہے کہ بخل کی وجہ سے کہاں تک ان لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ اگر کوئی وا نشان بھی طلب کریں تو کہتے ہیں کہ یہ دعا کرو کہ ہم سات دن میں مرجائیں۔ نہیں جانتے کہ خود تراشیدہ میعادوں کی خدا پیروی نہیں کرتا اس نے فرما دیا ہے کہ لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرائیل: ۳۷) اور اس نے اپنے نبی صلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاءٍ إِنِّي فَاعِلُ ذَلِكَ غَدًا سو جبکہ سید نا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کی میعاد اپنی طرف سے پیش نہیں کر سکتے تو میں سات دن کا کیوں کر دعوی کروں ۔۔۔ اگر کسی کو اس فیصلہ کے ماننے میں تردد ہو تو اس کو اختیار ہے کہ آپ خدا کے فیصلہ کو آزمائے لیکن ایسی شرارتیں چھوڑ دے جو آیت وَلا تَقُولَنَّ لِشَايْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا سے مخالف پڑتی ہیں۔ شرارت کی حجت بازی سے صریح بے ایمانی کی بو آتی ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۷، ۴۸ واربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۹۷) وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِهِ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِه ۔۔۔ کوئی نہیں کہ جو خدا کی باتوں کو ٹال دے ۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن خزائن جلد ا صفحه ۶۶۹ حاشیه در حاشیہ نمبر (۴) كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ تَتْ أكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِلْلَهُمَا نَهَرًا لغت کی رو سے بھی ثابت ہے کہ ظالم کا لفظ بغیر کسی اور لحاظ کے فقط کم کرنے کے لئے بھی آیا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں ۔۔۔۔۔ فرماتا ہے وَ لَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا أَى وَ لَمْ تَنْقُصُ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں نفس کے جذبات کو کم کرنا بلا شبہ ان معنوں کی رو سے ایک ظلم ہے۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۶، ۱۳۷ ) جس حالت میں خدا تعالیٰ نے بعض متقیوں کا نام بھی ظالم رکھا ہے اور مراتب ثلاثہ تقویٰ سے پہلا مرتبہ تقوی کا ظلم کوہی ٹھہرایا ہے تو اس سے ہم نے قطعی اور یقینی طور پر سمجھ لیا کہ اس ظلم کے لفظ سے وہ ظلم مراد نہیں ہے