تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 196

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٩٦ سورة الكهف الْقَرْيَةَ چاہتا ہے کہ ابتداء میں خوفناک صورتیں ہوں۔اصحاب کہف کی نسبت یہی ہے فاوا إِلَى الْكَهْفِ اور اور جگہ وَأوَيْنَهُما إلى ربوة - (المؤمنون : ۵۱ ) ان تمام مقامات سے یہی مطلب ہے کہ قبل اس کے کہ خدا تعالی آرام دیوے مصیبت اور خوف کا نظارہ پیدا ہو جاوے۔(البدر جلد نمبر ۵، ۶ مورخه ۲۸، نومبر و ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۶) اوی کا لفظ عربی زبان میں اُس پناہ دینے کو کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی حد تک مصیبت رسیدہ ہو کر پھر امن میں آجاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيما فاولى (الضحی :) یعنی خدا نے تجھے یتیم پایا اور یتیمی کے مصائب میں تجھے مبتلا دیکھا پھر پناہ دی اور جیسا کہ فرماتا ہے: أَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ و مَعِينٍ (المؤمنون : ۵۱) یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو بعد اس کے جو یہودیوں نے ان پر ظلم کیا اور حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا۔ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو پناہ دی اور دونوں کو ایک ایسے پہاڑ پر پہنچا دیا جوسب پہاڑوں سے اونچا تھا یعنی کشمیر کا پہاڑ جس میں خوشگوار پانی تھا اور بڑی آسائش اور آرام کی جگہ تھی اور جیسا کہ سورۃ الکہف میں یہ آیت ہے فاوا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرُ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَحْمَتِه (الجز ونمبر ۱۵ سوره کهف) یعنی غار کی پناہ میں آ جاؤ۔اس طرح پر خدا اپنی رحمت تم پر پھیلائے گا یعنی تم ظالم بادشاہ کی ایڈا سے نجات پاؤ گے۔غرض اوی کا لفظ ہمیشہ اس موقعہ پر آتا ہے کہ جب ایک شخص کسی حد تک کوئی مصیبت اُٹھا کر پھر امن میں داخل کیا جاتا ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۳، ۲۴۴) وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَزَوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ أَيْتِ اللهِ مَنْ يَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرشِدان جیسے جسمانی پیدائش کی ابتدا خدا ہی کی طرف سے ہے روحانی پیدائش کی ابتدا بھی خدا کی ہی طرف سے ہے - يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِى مَنْ يَشَاءُ (النحل : ۹۴) جس کو وہ بلاتا ہے وہ دوسرے کی بھی سن لیتا ہے مگر جس کو وہ نہیں بلاتا وہ کسی کی نہیں سنتا جیسا کہ خود اس نے فرمایا ہے مَنْ يَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مرشدا یعنی ہدایت وہی پاتا ہے جس کو خدا ہدایت دے اور جس کو خدا گمراہ رکھنا چاہتا ہے اس کو کوئی مرشد ہدایت نہیں دے سکتا۔( مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۷۰)