تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxii of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page xxii

xxi مضمون مومنوں کو دفاعی جنگ کی اجازت قرآن شریف میں ہرگز جبر کی تعلیم نہیں ہے اسلام نے تلوار اٹھانے میں سبقت نہیں کی اور اسلام نے صرف بوقت ضرورت امن قائم کرنے کی حد تک تلوار اٹھائی ہے صفحہ ۳۷۷ ۳۷۸ ۳۷۹ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ برس تک اس وجہ سے لڑائی نہیں کی کہ اس وقت تک پوری جمعیت حاصل نہیں ہوئی تھی کا جواب ۳۸۲ اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں۔۱۔دفاعی طور پر۔۲۔بطور سزا۔۳۔بطور آزادی قائم کرنے کے میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان بنانے کے لئے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ تلوار کھینچی کفار کی ظالمانہ کارروائیاں اور مسلمانوں کو جہاد کا حکم اعتراض کہ اسلام میں اگر ہمدردی کی تعلیم ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لڑائیاں کیوں کرتے کا جواب بطور سزا ، بطور مدافعت ، بطور حفاظت خود اختیاری بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی اعتراض کا جواب کہ تم جہاد کو موقوف کرتے ہو اسلام ہمیشہ اپنی پاک تعلیم اور ہدایت اور اس کے ثمرات اور معجزات سے پھیلا ہے اور آئندہ جب اسلام ترقی کرے گا تو اس کی یہی راہ ہوگی نہ کوئی اور ۳۸۵ ۳۸۵ ۳۸۶ ۳۸۷ ۳۸۸ ۳۸۸ ۳۸۹ نمبر شمار ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۷ ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵