تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 189
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹ وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنَهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَ نَذِيرًا قرآن کو ہم نے ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور حقانیت کے ساتھ اترا ہے۔سورة بنی اسراءیل برائین احمد یہ چہار صص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۶ حاشیہ نمبر ۱۱) اور ہم نے اس کلام کو ضرورت حقہ کے ساتھ اُتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ یہ اترا ہے۔یعنی یہ کلام فی حد ذاتہ حق اور راست ہے اور اس کا آنا بھی حقاً اور ضرورتا ہے یہ نہیں کہ فضول اور بے فائدہ اور بے وقت نازل ہوا ہے۔یہ ضرورت حقہ کے وقت نازل کیا گیا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے۔براتین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۵۰،۶۴۹) (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۵۹) متصوفین کے مذاق کے موافق صعود اور نزول کے ایک خاص معنے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب انسان خلق اللہ سے بکلی انقطاع کر کے خدائے تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو اس حالت کا نام متصوفین کے نزدیک صعود ہے اور جب مامور ہو کر نیچے کو اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے تو اس حالت کا نام نزول ہے۔اسی اصطلاحی معنی کے لحاظ سے نزول کا لفظ اختیار کیا گیا ہے اس کی طرف اشارہ ہے جو اس آیت میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ بِالْحَقِّ انْزَلْنَهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۰) ہم نے اس کو۔۔۔بیچائی کے ساتھ اتارا اور سچائی کے ساتھ اترا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۳۹،۱۳۸ حاشیه ) ضرورت حقہ کے ساتھ ہم نے اس کلام کو اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے۔(نور القرآن نمبر ا ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۴) وہ ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا گیا اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۰۳) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کے لئے پہلی دلیل یہی ہے کہ آپ جس وقت تشریف لائے وہ وقت چاہتا تھا کہ مردے از غیب برون آدکارے بکند۔اسی کی طرف قرآن کریم نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے بِالْحَقِّ انْزَلْنَهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ - الحکم جلد ۶ نمبر ۱۰ مورخہ ۷ اس مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۴)